حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 218
خدا نے چاہا۔کہ انسان کو اس زمین میں سے مٹا ڈالے۔پر خدا نے ایک دفعہ پھر ان پر رحم کیا۔اور اپنے بندے نوحؑ کو جو صادق اور کامل تھا اور خدا کی راہ پر چلتا تھا۔اور اس واسطے اس پر خدا کی مہربانی کی نظر تھی۔ان لوگوں کی طرف بھیجا کہ انہیں آنیوالے عذاب سے ڈرائے۔حصرت نوحؑ نے خدا تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کی۔مگر قوم نے نہ مانا۔اور موردِ عذابِ الہٰی ہوئی۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍ جنوری ۱۹۱۲ء) ۲۴۔ ۔یہ ان کے بُتوں کے نام ہیں۔۱۔: محبّت اور خواہش کا دیوتا۔جس کے متعلق ان کا خیال تھا کہ وہ اپنے ارادے سے ایجادِ عالم کا باعث ہوا۔اس کو مرد کی صورت پر بنایا جاتا ہے۔ہندوؤں میں اس کے بالمقابل برہماؔ ہے۔۲۔سُوَاعَ: بقائے عالم کا بُت جو عورت کی شکل میں ہوتا ہے۔اس کے مقابل ہندو میتھالوجی میں بِشن ہے۔۳۔: حاجت روائی اور فریادرسی کا دیوتا۔اس کی شکل گھوڑے کی تھی۔شاید اس واسطے کہ فریادرسی کے لئے تیز رفتاری کی ضرورت ہوتی ہے۔اس طرح ہندوؤں میں اِندر دیوتا ہے۔ٔ ۴۔: ( عوق سے مشتق ہے۔بمعنے روکنا اور دفع کرنا) یہ مصیبتوں اور دشمنوں کے روکنے کا بُت تھا۔بشکل شیر۔ہندوؤں میں اس کے بالمقابل شنگھ اوتار دیوتا ہے۔۵۔: طولِ عمر کا دیوتا بشکل باز بنا ہوا ہوتا ہے۔یہی بت اس قوم کی ہلاکت کا موجب ہوئے۔۲۷۔۔حضرت نوحؑ نے آخر تنگ آ کر اپنی قوم کے حق میںبددُعا کی۔انبیاء کی بددُعا سے ڈرنا چاہیئے