حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 217
: اﷲ تعالیٰ نے نبات کو پیدا کیا ہے۔زمین کی روئیدگی انسان کے نشوونما کا موجب ہے اور یہی اغذیہ بالآخر نطفہ کی صورت میں متشکل ہو کر انسان بنتا ہے۔اسی طرح انعاماتِ الہٰیّہ بتلا کر حضرت نوحؑ نے اپنی قوم کو اﷲ تعالیٰ کی طرف متوجّہ کیا۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍ جنوری ۱۹۱۲ء) ۲۰،۲۱۔۔ ۔: آرام گاہ۔پھیلا ہوا۔: ایسا ہی دل کے واسطے بھی راستے ہیں۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍ جنوری ۱۹۱۲ء) ۲۲،۲۳۔ ۔۔اپنے خیر خواہوں پر جب ہم نظر کرتے ہیں تو سب سے اوّل یہ خیر خواہی ماں یا دودھ پلائی سے سروع ہوتی ہے۔دودھ پلانے والی کو بھی فبچہ ماں کہہ کر پکارتا ہے۔اسی وجہ سے بچے تکالیف کے وقت ماں کہہ کر پکارتے ہیں۔پھر بڑے ہو کر باپ کو خیر خواہ سمجھتے ہیں۔پھر جوانی میں دوست پیدا ہو جاتے ہیں اور خیر خواہ ہوتے ہیں۔یہ انسان کے خیر خواہ ہوتے ہیں۔اور ان کے سوا اور بھی خیر خواہ ہیں۔لیکن یہ سب خیر خواہ غلطی کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں۔ان سب سے اعلیٰ مخلوق کا خیر خواہ انبیاء کا گروہ ہے ( علیہم الصلوٰۃ والسلام) جو کبھی غلطی نہیں کرتے۔اور ان کو مخلوق کے ساتھ بہت محبت ہوتی ہے۔تعجّب ہے کہ لوگ انبیاء کی باتوں کو نہیں مانتے۔ان آیات میں حصرت نوح علیہ السلام دردِ دل کے ساتھ اپنے رب کے حصور میں شکوہ کرتے ہیں کہ میں نے اپنی قوم کو بہت سمجھایا پر وہ میری بات نہیں مانتی۔اس زمانہ میں لوگ بہ سبب امن عامہ کے عیش و عشرت کی غفلت میں گرے ہوئے تھے۔زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی تھی اور اس کے دل کے تصوّر اور خیال روز بروز صرف بدی ہوتے تھے۔تب