حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 18 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 18

۲۱،۲۲۔۔۔ہمہ اُوست کے مسئلہ پر ایک آیت بھی نصّ لریح الدلالہ نہیں۔یہ دیگر بات ہے کہ خود غرض لوگوں نے اپنے مدعا کے اثبات کے لئے قرآن کریم سے اس پر استدلال کیا ہے۔میں نے یہ دو آیتیں قائیلین وحدت الوجود سے استدلال میں سُنی ہیں۔اوّل:۔مگر جب اس آیت کا ماقبل ان سے دریافت کیا جاوے تو حیران رہ جاتے ہیں۔اس کا ماقبل یہ ہے۔: بات نہایت صاف ہے کہ اس زمین میں بس موجودات میں یقین کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں اور جب تم اس سیر بیرونی سے فارغ ہو جاؤ تو پھر اپنے نفوس میں مطالعہ کرو۔تدبّر کرو۔دوسری آیت شریف۔ (الحدید:۴) (تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۲۳۰) ۳۰۔ ۔: جماعت میں بولتی۔جھروکہ۔حیرت۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر ۹ صفحہ ۴۸۲) ۴۸۔۔اس سوال کے جواب میں کہ ’’خدا نے زمین و آسمان کو اپنے ہاتھ سے بنایا اور خدا کو تکان نہ ہوئی۔ہاتھ سے بنانے کی کیا ضرورت تھی۔کُنْ سے بناتا وغیرہ وغیرہ ‘‘ فرمایا۔’’کیا اﷲ تعالیٰ کے حضور تمہارے مشورہ کی بھی ضرورت ہے۔پرمیشر احکم الحاکین حضرت ربّ العٰلمین سرب شکتیمان ہیں۔القادر الصمّد اور الغنی ہیں۔پھر سرشٹی کو میتھنی کیوں بنایا۔پھر کیا ضرورت تھی کہ عورتوں سے صحبت ہو۔ان میں مرد کا نطفہ پڑے اور بشکل لڑکا ایک تنگ سوراخ سے نکل کر محنت و مشقّت سے جوان ہو۔