حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 215
: استغفار کے برکات اور نتائج: ان آیات میں حضرت نوحؑ نے انسانی ضروریات کی جہت سے بیان فرمائے ہیں۔عور کر کے دیکھ لو۔کیا انسان کو انہیں چیزوں کی ضرورت دنیا میں نہیں ہے۔پھر ان کے حصول کا علاج استغفار ہے۔( بدر ۵؍ مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ ۵ ، نیز الحکم ۲۶؍ فروری ۱۹۰۸ء صفحہ ۳) سَمَآئکے معنے بادل کے ہیں۔بارانِ رحمت ہو گی۔غلّہ اور ہر شئے ارزاں ہو گی۔سَمَآء کے معنے بارش کے بھی آئے ہیں۔ایک شاعر کہتا ہے۔اذا نزل السماء بارض قومٍ رعیناہُ و ان کانوا غضابًا : بڑھائے گا۔مال اور بیٹے بہت ہوں گے۔ان آیات میں حضرت نوح علیہ السلام فرماتے ہیں۔کہ اگر تم استغفار کرو۔تو سب برکتیں حاصل ہوں گی۔گناہ بخشے جائیں گے۔بارش ہو گی۔ہر شے ارزاں ملے گی۔مال و دولت بہت ہو گی۔اولاد کی کثرت ہو گی۔باغ ہوں گے۔نہریں جاری ہوں گی۔ان آیات سے استغفار کی فضیلت ظاہر ہے۔استغفارکیا ہے؟ سچے دل سے اﷲ تعالیٰ کے حضور میں پچھلے گناہوں کی سزا سے بچنے کی توفیق طلب کرنا۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۵؍ دسمبر ۱۹۱۱ء) روایت ہے کہ ایک دن حسن بصری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک شخص گیا اور قحط کی شکایت کی۔آپ نے اسے فرمایا کہ استغفار کرو۔پھر ایک اور شخص گیا۔اُس نے کہا۔یا حضرت۔مَیں محتاج ہوں فرمایا استغفار کرو۔ایک تیسرے نے کہا کہ میرے اولاد نہیں ہوتی۔اُسے بھی استغفار کرنے کا حکم دیا۔چوتھے نے پیداوارِ زمین کی کمی کا گلہ کیا۔اُسے بھی استغفار کی تاکید فرمائی۔ہاضرِ مجلس ربیع بن صحیح نے عرض کی کہ آپ کے پاس مختلف لوگ آئے اور مختلف چیزوں کے سائل ہوئے مگر آپ نے جواب سب کو ایک ہی دیا۔اس کے جواب میں حسن بصری نے قرآن شریف کی یہی آیات پڑھیں۔جماعت احمدیہ کو بھی استغفار کی تاکید ہر روز بار بار کی جاتی ہے۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍ جنوری ۱۹۱۲ء)