حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 214 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 214

حضرت نوح علیہ السلام بڑی خیر خواہی اور دردمندی کے ساتھ اپنی قوم کو سمجھاتے تھے۔کہ تم ایمان و اطاعت کے قبول کرنے میں سُستی نہ کرو۔ورنہ پھر یہ موقعہ ہاتھ نہ لگے گا ؎ روزے کہ اجل در آید از پیش و پشت شک نیست کہ مہلت نہ دہدیک نَفَسَت یاری نہ رسد درآں دم ازہیچ کست برباد شود جملہ ہواؤ ہَوَسَت ( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۵؍ دسمبر ۱۹۱۱ء) ۶۔۔: انبیاء رات دن اپنی اُمّت کی اصلاح کی فکر میں رہتے ہیں۔کیسا ہمدرد اور خیر خواہ انسانی گروہ ہے۔(اَللّٰھُمَّ صل علی جمیع الانبیاء و الرسل و بارک و سلم انک حمید مجید) ( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۵؍ دسمبر ۱۹۱۱ء) ۸۔ ۔نبیؐ کی بات لوگ سُننا بھی پسند نہ کرتے۔جیسا کہ اس زمانہ کے علماء پبلک کو تاکید کرتے رہتے ہیں کہ مرزا صاحب کی کتاب نہ پڑھو۔اُس کے گاؤں میں نہ جاؤ۔اُس کے مریدوں سے ملاقات نہ کرو۔یہ بھی ایک تکبّر ہے۔: اپنے دلوں کو انہوں نے دٍانک رکھا ہے۔ثیاب کے معنے دل کے بھی آتے ہیں۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۵؍ دسمبر ۱۹۱۱ء) ۱۰۔۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۵؍ دسمبر ۱۹۱۱ء) ۱۱ تا ۱۳۔۔ ۔ ۔