حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 213
عذاب کے بھیجنے سے قبل اﷲ تعالیٰ نے اپنا رسول دنیا میں بھیجا۔تاکہ وہ اس کی بات مان کر عذاب سے بچ جاویں۔اِنََّا: ہم نے ہی۔حضرت نوحؑ کی رسالت کی صداقت کو لفظ اِنََّا کی تاکید کے ساتھ ظاہر کیا ہے اس میں اشارہ ہے کہ جیسا کہ نوحؑ کے مخالفین بچ نہ سکے۔ایسا ہی نبی کریم رسول خاتم النبیین سیّدنا محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے مخالفین بھی نہ بچیں گے۔علیہما الصلوٰث والسّلام۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۵؍ دسمبر ۱۹۱۱ء) ۴۔۔: خدائے تعالیٰ کی عبادت کرو۔: اس سے ڈرو۔: میری پیروی کرو۔ کا لفظ ان خیالات کے لوگوں کا ردّ کرتا ہے جن کے نزدیک رسولؐ کی اطاعت ضروری نہیں۔اس آیت میں حضرت نوحؑ نے بتلایا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی عبادت اور تمہارے تقوٰی اﷲ کی حقیقت تب متحقق ہو گی۔جب تم میری اطاعت کرو۔یہ اطاعتِ رسولؐ کے لئے ایک زبردست دلیل ہے۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۵؍ دسمبر ۱۹۱۱ء) ۵۔ ۔ان تین باتوں ۱۔عبادت الہٰی ۲۔تقوٰی اﷲ ۳۔اطاعتِ رسولؐ کے کرنے کا نتیجہ یہ ہو گا۔۱۔تمہارے گناہ بخشے جائیں گے۔بد عملی کی سزا سے نجات پا, گے۔۲۔تمہاری عمر لمبی ہو گی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اجل جب آ جاتی ہے تو نہیں ٹلتی لیکن آ چکنے سے قبل دعا و صدقہ وغیرہ سے ٹل جاتی ہے۔حضرت نوحؑ کی لمبی عمر ان کے دعوے کے واسطے کافی دلیل ہے۔