حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 200 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 200

د جانتا ہے۔یا اس کے وسیع اور غیر محدود علم سے منکر ہے۔اب یاد رکھو کہ قرآن شریف میں یہ تو کہیں نہیں کہ خدا کو کوئی فرشتہ اٹھا رہا ہے بلکہ جا بجا یہ لکھا ہے کہ خدا ہر ایک کو اُٹھا رہا ہے۔ہاں بعض جگہ یہ استعارہ مذکور ہے کہ خدا کے عرش کو جو دراصل کوئی جسمانی اور مخلوق چیز نہیں فرشتے اٹھا رہے ہیں دانشمند اس جگہ سے سمجھ سکتا ہے کہ جبکہ عرش کوئی نجسّم چیز نہیں تو فرشتے کس چیز کو اٹھاتے ہیں۔ضرور کوئی استعارہ ہو گا۔مگر آریہ صاحبوں نے اس بات کو نہیں سمجھا کیونکہ انسان خود غرضی اور تعصّب کے وقت اندھا ہو جاتا ہے۔اب اصل حقیقت سنو! کہ قرآن شریف میں لفظ عرش کا جہاں جہاں استعمال ہوا ہے۔اس سے مراد خدا کی عظمت اور جبروت اور بلندی ہے۔اسی وجہ سے اس کو مخلوق چیزوں میں داخل نہیں کیا۔اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور جبروت کے مظہر چر ہیں۔جو وید کی رُو سے چار دیوتے کہلاتے ہیں۔مگر قرآنی اصطلاح کی رُو سے ان کا نام فرشتے بھی ہے۔اور وہ یہ ہیں۔اکاش جس کا نام اِندر بھی ہے۔سورچ دیوتا جس کو عربی میں شمس کہتے ہیں۔چاند جس کو عربی میں قمر کہتے ہیں۔دھرتی ؔ جس کو عربی میں ارض کہتے ہیں۔یہ چاروں دیوتا جیسا کہ ہم اس رسالہ میں بیان کر چکے ہیں۔خدا کی چاروں صفتوں کو جو اس کے جبروت اور عظمت کا اَتَم مظہر ہیں جن کو دوسرے لفظوں میں عرش کہا جاتا ہے اٹٍا رہے ہیں۔یعنی عالم پر یہ ظاہر کر رہے ہیں۔تصریح کی حاجت نہیں۔اس بیان کو ہم مفصّل لکھ آئے ہیں اور قرآن شریف میں تین قسم کے فرشتے لکھے ہیں ۱۔ذرّات اجسام ارضی اور روحوں کی قوتیں ۲۔آکاش سورج چاند زمین کی قوتیں جو کام کر رہی ہیں ۳۔ان سب پر اعلیٰ طاقتیں جو جبرائیل ، میکائیل و عزرائیل وغیرہ نام رکھتی ہیں جن کو وید میں جَسمْ لکھا ہے۔مگر اس جگہ فرشتوں سے یہ چار دیوتے مراد ہیں۔یعنی اکاش اور سورج وغیرہ جو خدا تعالیٰ کی چار صفتوں کو اٹھا رہے ہیں۔یہ وہی چار صفتیں ہیں جن کو دوسرے لفظوں میں عرش کہا گیا ہے۔اس فلسفہ کا وید کو بھی اقرار ہے مگر یہ لوگ خوب ویددان ہیں جو اپنے گھر کے مسئلہ سے بھی انکار کر رہے ہیں۔اخیر میں سُنو۔بہو لوگ۔انترکش۔برہم لوگ جن کو ذکر منو ۲۔۲۳۳ میں ہے۔اس کے اُوپر کس کی حکومت ہے۔( تصدیق براہین احمدیہ) ۲۰ تا ۳۰۔