حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 15
جب تک خدا اشرار کو اس میں نہ ڈالے۔پھر وہ بس کریگی۔جواب نمبر۴: وَضْعُ الْقَدَمِ مَثَلٌ لِلرَّدْعِ وَ الْقَمْعِ۔یعنی وضع قدم ایک محاورہ ہے جس کے معنے ہیں روکنا۔اور تھام لینا۔اب حدیث کے یہ معنے ہوئے کہ ’’یہاں تک اﷲ تعالیٰ اپنی روک اور تھام رکھے گا۔اور ایسی روک کردیگا کہ دوزخ ھَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ کہنے سے رک جائے گی۔‘‘ جواب نمبر۵: وَضْعُ الْقَدَم : (پاؤں رکھ دینا) ذلیل اور خوار کرنے پر بولا جاتا ہے۔چونکہ عبری اور عربی قریب قریب زبانیں ہیں اور کتبِ مقدّسہ میں بھی یہ محاورہ برتا گیا ہے۔بنظرِ ثبوت اتنا ہی بس ہے۔۱۔یسعیاہ ۳۷ باب ۲۵۔خدا فرماتا ہے میں اپنے پاؤں کے تلووں سے مصر کی سب ندیاں سُکھا دوں گا۔۲۔۲۔سموئیل ۲۲ باب ۳۹۔ہاں وہ میرے قدموں تلے پڑے ہیں۔۳۔۱۔سلاطین ۵ باب ۳۔جب تک کہ خدا نے ان کو اُس کے قدموں تلے نہ کر دیا۔۴۔زبور ۸۔۶۔تو نے سب کچھ اس کے قدم کے نیچے کر دیا۔۵۔لوقا۲۰ باب ۴۲ ومرقس ۱۲ باب ۳۶۔جب تک تیرے دشمنوں کو تیرے پاؤ ںکی چوکی کروں۔دیکھو ان محاورات میں لغوی معنوں میں قدم کا لفظ نہیں بولا گیا۔بلکہ مجازی معنوں میں۔پس حدیث کے یہ معنی ہوئے کہ ’’یہاں تک کہ خدا جہنم کو ذلیل و خوار کر ڈالے اور اسے چُپ کرا دے۔ہاں یہ محاورہ اس خطبہ میں بھی آیا جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آخری حج میں بمقام عرفات پڑھا ’’ وَ دِمَآئُ الْجَاھِلِیَّۃِ مَوْضُوْعَۃٌ تَحْتَ قَدَمِیْ ‘‘ جواب نمبر۶: یہ جواب گوالزامی جواب ہے مگر ہم نے اس بارہ میں مسیحؑ کے اس قول کی پیروی ہے کہ ’’الزام مت لگاؤ تاکہ تم پر الزام نہ لگایا جاوے‘‘ اور نیز الزامی جواب اس لئے بھی اخیتارکیا جاتا ہے۔کہ معترض اپنی مسلّمہ و مألوفہ کتابوں سے اس قسم کے اشتباہ کو رفع کرے۔اب جواب سنئے۔مسیحی اعتقاد میں مسیحؑ ملعون ہوا ( نعوذ باﷲ) اوع ملعون کا ٹھکانہ جہنم ہے۔دیکھو حل الاشکال اوع پولوس نامۂ گلتیاں ۳ باب ۱۳ جو کاٹھ پر لٹکایا جاوے۔وہ ملعون ہے۔اور نیز مسیحی اعتقاد میں مسیحؑ خدا ہیں اور ربّ العزّت بھی ہیں ( صاحب عزّت) پس معنے یہ کہ جہنم کو تسکین نہ ہو گی۔جب تک عیسائیوں کے خدا اس میں قدم نہ رکھیں۔اب سارے جوابوں کی آپ ہی کوشش کریں۔حاصل الامر چونکہ پادری صاحب نے حدیث کا مطلب غلط سمجھا اور بطور بانئے فاسد علی الفاسد اس سے غلط استنباطات کئے۔پس ان کے اعتراض کے باقی شقوق بھی بیکار و معطّل ہو گئے۔اس لئے ہمیں ان شقوق پر فضول خامہ فرسائی کرنے کی ضرورت نہیں۔کیونکہ فاسد مقدمہ کا نتیجہ لابد فاسد ہی ہوا کرتا ہے۔