حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 185
کی عبادت کی طرف بلانے والے مؤذن نے حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ۔َیَّ عَلَی الْفَلَاح کا کلمہ اونچے منار سے نبلند آواز کے ساتھ پکار سنایا۔اور وہ میٹھی آواز سلیم الفطرت ناتواں کے کان میں پہنچی۔اب اس کا دل مسجد کو جانے کے لئے تڑپتا ہے۔مگر اس وقت وہ مرنے کی حالت میں مبتلا۔اچھی طرح ہل جل بھی نہیں سکتا اور دل میں کڑھتا ہے مگر اب اس کڑھنے سے قوی نہیں ہو جاتا۔اسی آیتِ شریف میں وَ قَدْ کَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوْدِ کے پیچھے وَھُمْ سَالِمُوْن کا کلمہ ان معنے کا قرینہ موجود ہے۔جس کے معنی ہیں ’’ اور تجقیق وہ لوگ بلائے جاتے تھے سجدہ کی طرف جبکہ بھلے چنگے تھے‘‘ ان معنی کی تصدیق تفسیر کبیر کے جلد نمبر۸ صفحہ ۲۷۴ سے بخوبی ہو سکتی ہے۔دوسری توجیہہ۔اس آیت شریف کی اَلسَّاقُ ذَاتُ الشَّیئِ وَ حَقِیْقَۃُ الْاَمْرٍ۔کیا معنی ؟ ساق کا لفظ عربی زبان میں کسی چیز کی ذات اور اس کی اصل حقیقت کو کہتے ہیں۔کے معنے یہ ہوئے۔جس دن اشیاء کی اصل حقیقت ظاہر ہو گی۔اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تعلیمات کے منکر اپنی نافرمانیوں کا بدلہ دیکھیں گے۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۷؍دسمبر ۱۹۱۱ء) اس وقت اتماماً للحجۃ پھر سجدہ کی طرف بلائے جائیں گے مگر پہلی نافرمانی کا بد نتیجہ یہ ہو گا کہ اس وقت سجدہ نہ کر سکیں گے۔تیسری توجیہہ اس آیت شریف کی یہ ہے کہ ہر ایک چیز کی پہچان مختلف اسباب سے ہوا کرتی ہے مثلاً کوئی شخص ایک آدمی کو اس کا منہ دیکھ کر پہچان سکتا ہے اور سابقہ جان پہچان والا ادنیٰ نشان جیسے قَدم اور ساق کو دیکھ کر پتہ لگا سکتا ہے۔اسی طرح ایک سمجھدار۔صحیح الفطرت۔صاحبِ دانش ادنیٰ ادنیٰ امور سے باری تعالیٰ کے وجود اور اس کی ہستی کا پتہ حاصل کر سکتا ہے۔؎ برگ درختانِ سبز دَر نَظرِ ہوشیار ہر ورقے دفترِ معرفتِ کردگار اور کم فہم مریض الفطرت کو عمدہ عمدہ دلائل سے بھی معرفتِ الہٰی حاصل نہیں ہو سکتی۔اسی طرح ہنگامہ محشر کے وقت جو اسی موجود دنیا کا نتیجہ ہے۔جب الہٰی صفات کا ظہور ہو گا تو ناسمجھ اپنی کمی معرفت اور نقص عرفان کے باعث بخلاف سمجھ داروں کے سجدہ سے محروم رہ جاویں گے۔اور اسلام والے اپنے عرفان اور ایمانی نور کے باعث ادنیٰ ظُہورِ صفات پر جسے کشفِ ساق کہتے ہیں۔جو کشفِ وجہ سے کم ہے سجدہ میں گریں گے اور منافقوں نافہموں کی پیٹھ اس وقت طبق واحد ہو جائے لگی۔چوتھی توجیہہ جو بالکل میرے مسلک پر ہے یہ ہے۔ساقؔ اور اس کا کشف باری تعالیٰ کیء صفت ہے اور صفات کا معاملہ ایسا ہے کہ ان کی حقیقت ہمیشہ بلحاظ اپنے موصوف کے بدل جایا کرتی ہے