حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 186
مثلاً بیٹھنا ہماری صفت ہے جس سے ہم ہر روز مُتَّصف ہوتے ہیں۔مگر ایک بڑے ساہوکار یا کسی امیر کا عروج کے بعد بیٹھ جانا ہمارے روزمرّہ کے بیٹھ جانے سے نرالا ہو گا۔برسات کے دنوں میں مینہ کے زور سے دیوار کا بیٹھ جانا پہلے بیٹھنوں سے بالکل الگ ہو گا۔اور ایک بادشاہ کا تخت پر بیٹھ جانا کوئی اور ہی حقیقت رکھے گا۔ان مثالوں میں دیکھ لو۔بیٹھنا ایک صفت ہے مگر بلحاظ تبدّل موصوفین کے اس صفت کی ایک قسم دوسری قسم سے بالکل علیحدہ ہے۔اب ان سب سے ایک لطیف بیٹھنا سُنو! جس کی حقیقت ان تمام بیٹھنوں سے بالکل الگ ہے وہ بیٹھنا کیا ہے۔کسی کی محبّت کا کسی کے دل میں بیٹھ جانا اور کسی کی عداوت کا کسی کے دل میں بیٹھ جانا۔کسی کے کلام کا کسی کے دل میں گھر کر لینا یا بیٹھ جانا۔جب اہلِ اسلام نے باری تعالیٰ کو ( الشورٰی: ۱۲) انوپیم۔بے مانند مانا ہے تو اس بات کا تسلیم کرنا ہر عاقل منصف کا فرض ہے کہ وہ اس کی قدرت۔اس کی طاقت۔اس کا علم۔اس کی حیات۔اس کا موجود ہونا۔اس کا ازلی ہونا۔اس کا ابدی ہونا۔اس کا یَد۔اس کا وَجّہ اس کی ساق۔اس کا کشف۔اس کا عرش پر بیٹھنا سب بے مثل ہو گا۔چونکہ ہم اس کی ذات سے کوئی مشابہت نہیں رکھتے۔اس لئے ہماری کوئی صفت اس کی کسی صفت سے مشابہ نہ ہو گی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۷؍دسمبر ۱۹۱۱ء، تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۲۰۳ تا صفحہ ۲۰۷) ۴۵۔ ۔ذَرْنِیْ: یہ ایک محاورہ ہے۔ہمارے ملک میں بھی کہتے ہیں۔مجھے چھوڑ دو۔مَیں ذرا اس کی خبر لے لوں۔زبان انگریزی میں بھی اس قسم کا محاورہ لفظ Letسے استعمال کیا جاتا ہے۔۴۷۔۔یہ بھی اس نبی کی صداقت کا ثبوت ہے کہ وہ تمہاری خیر خواہی میں رات دن مصروف ہے اور اس کے عوض میں تم سے کچھ مزدوری نہیں چاہتا۔