حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 183 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 183

۔۔: قیامت کے معاملہ میں۔: ذمہ دار ( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍ نومبر ۱۹۱۱ء) ۴۳،۴۴۔ ۔ ۔: یہ ایک محاورہ عربی زبان کا ہے۔اور اس کے معنے ہیں۔جب حقیقت کھل جائے گی یا جب بہت گھبراہٹ ہو گی۔بعض تفاسیر کے بیان کردہ معانی کے بناء پر اس آیت پر آریوں اور عیسائیوں نے اعتراض کیا ہے جو کب بمعہ جواب درج ذیل ہے۔’’ مکذب براہین نے تکذیب کے صفحہ ۶۹ میں قرآن شریف کی آیت کو صانعِ عالم کی ہستی کی دلیل سمجھ کر یہ اعتراض کیا ہے ’’ خدائے بے چون و چرا محمدیوں کو کہتا ہے۔میں قیامت کے روز تم کو دیدار دوں گا اور تم نہیں مانو گے۔اور پھر مَیں تمہارے اصرار کرنے پر پنڈلی سے جامہ اٹھا کر بتلاؤں گا تب تم سجدہ میں گرو گے۔جائے تعجّب اور حیرت ہے۔خدا تعالیٰ بسبب زودرنجی کے جامہ سے باہر ہوا جاتا ہے۔اور نہیں شرماتا‘‘ مُصدِّق: تمام اعتراض از سرتاپا۔افترا و بہتان۔اور راستی سے بے نام و نشان ہے۔اوّل اس لئے کہ اگر معترض ہی کا وہ ترجمہ مان لیا جاوے جو خود معترض نے اس آیت کے نیچے لکھا ہے ’’ جس روز جامہ اٹھایا جاوے گا پنڈلی سے اور بلائے جاویں گے لوگ واسطے سجدہ کرنے کے۔پس نہ کر سکیں گے ‘‘ ( تکذیب صفحہ نمبر ۶۸) جب بھی اس ترجمہ سے وہ باتیں نہیں نکلتیں جو مکذّب براہین نے اپنے اعتراض میں بیان کی ہیں۔مثلاً نمبر۱ ’’ تم کو دیدار دوں گا‘‘ نمبر۲ ’’ اور تم نہیں مانو گے‘‘ نمبر۳ ’’ پھر میں تمہارے اصرار پر‘‘ نمبر۴ ’’ تب تم سجدہ میں گرِو گے‘‘ نمبر۵ ’’ زُودرنجی‘‘ نمبر۶’’ نہیں شرماتا‘‘۔تعجب و حیرت ہے کے معنے مکذّب نے یہ لکھے ہیں