حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 182 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 182

ہوا۔جو شخص نقصان پر صبر کرتا ہے اور اپنے گناہوں کا اقرار کر کے اﷲ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے۔اﷲ تعالیٰ پہلے سے بہتر و برتر عنایت کرتا ہے۔مولانا روم فرماتے ہیں ؎ اوّلم خم شکست و ہر کہ بریخت من نگفتم کہ ایں زیانم کرد صد خمِ صافی ازپیٔ آں حوضم داد و شاد مانم کرد ( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍ نومبر ۱۹۱۱ء) ۳۵۔۔مُتَّقِیْنَ: اوپر کی آیات میں منکریں کا بیان ہے۔اب متّقین کا ذکر ہے کہ جن لوگوں نے تقوٰی اختیار کیا ہے اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی متابعت اختیار کی۔وہ کامیاب اور بامراد ہوں گے۔ان کے لئے جنّٰت النعیم ہے۔یہاں بھی اور وہاں بھی۔یہ ایک پیشین گوئی ہے جو کہ اس جہاں میں بھی پوری ہو گی اور اگلے جہاں میں بھی۔۳۶۔۔مُجْرِم: قطع تعلق کرنے والا۔مَسْلِم: سچّا فرماں بردار۔خدا تعالیٰ سے تعلق رکھنے والا۔فرمایا ہے۔کہ جو لوگ اﷲ تعالیٰ کے حکموں کو نہیں مانتے اور رسول کا انکار کرتے ہیں۔وہ ان لوگوں کے ساتھ برابر نہیں ہو سکتے جو قطع تعلق کرنے والے ہیں۔۳۹۔۔: جو تم پسند کرو۔کیا جو تم پسند کرتے ہو وہ شریعت بن سکتی ہے؟خیالات کے ساتھ واقعات وابستہ نہیں ہو سکتے۔یہ بہت مشکل بات ہے کہ انسان کی تمام خواہشات پوری ہوتی جائیں۔۴۰،۴۱۔