حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 181 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 181

یہاں ایک قوم کا حال بطور مثال کے بیان کیا گیا ہے۔خدا تعالیٰ نے انہیں ایک باغ عطا کیا تھا۔مگر انہوں نے خداوند تعالیٰ کی نعمت کا شکریہ کر کے مساکین کو حصّہ نہ دینا چاہا۔بخل کیا۔نتیجہ یہ ہوا۔کہ تمام باغ جل کر سیاہ ہو گیا۔اور ان کے ہاتھ بھی کچھ نہ آیا۔اس مثال سے اہلِ مکّہ کو عبرت حاصل کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ تمہیں جو ریاست و دولت دی گئی ہے۔اس سے نیک فائدہ اٹھا۔یہ ایک ابتلاء ہے کہ مال و جاہ والا ہو کر تم پیغمبرِ وقت کی اطاعت کرتے ہو یا نہیں۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍ نومبر ۱۹۱۱ء) : استثناء سے مراد شکر نعمت اﷲ کا بجا لانا ہے اور انشاء اﷲ کہنا ہے۔اہلِ محاورہ بولتے ہیں۔حَلَفَ فُلاَنٌ یَمِیْنًا لَیْسَ فِیْھَا اِسْتِثْنَائٌ انسان کو چاہیئے کہ اپنے ہر ارادے میں اﷲ تعالیٰ پر توکّل کرے اور اس کے علم اور قدرت سے سہارا لے۔اور انشاء ا کہے۔مگر اس مقدّس کلمہ کو وعدہ پورا نہ کرنے کا بہانہ نہ بنائے جیسا کہ فی زمانہ بعض لوگوں کی عادت ہو گئی ہے۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍ نومبر ۱۹۱۱ء) ۲۰۔۔: پھر جانے والا عذاب۔رات کے وقت اس قوم پر عذاب آیا تھا۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍ نومبر ۱۹۱۱ء) ۲۶۔۔: لپک کر چلنے والے۔مساکین کے نہ دینے کا اندازہ کرنے والے۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍ نومبر ۱۹۱۱ء) ۳۳۔۔معلوم ہوتا ہے کہ ان کی سرشت اچھی تھی کیونکہ پھر خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کا عزم ان میں پیدا