حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 169 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 169

حال بھی نہیں اور ایسا کلام لانے کے لئے وہ طاقت ہی نہیں رکھتے۔بے ریب ایسا کلام سننے سے وہ الگ کئے گئے ہیں۔کیونکہ تمام شیطانی کاموں کا قرآن مجید میں استیصال ہے۔بھلا شیطان اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مارتا ہے؟ شیاطین تو ہر ایک کذّاب۔مفتری۔بہتانی۔بدکار پر نازل ہوا کرتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۳؍ نومبر ۱۹۱۱ء، نور ا لدّین طبع ثالث صفحہ ۱۹۴ تا ۲۰۱) ۱۱۔۔رُوح کی بیماریوں کے علاج کا ایک ہی نسخہ ہے۔جس کا نام قرآن شریف ہے۔اس میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔کہ بدکار لوگ کہیں گےکہ اگر ہم خدا کے فرستادوں کی باتوں کو کان دھر کر سُنتے اور عقل سے کام لیتے تو آج ہم دوزخیوں میں سے نہ ہوتے۔یہ حسرت ان کو کیوں ہو گی۔صرف اس لئے کہ وقت ان کے ہاتھ سے نکل گیا اور اب پھر ہاتھ نہیں آسکتا۔پس رُوح کی بیماری کا یہی علاج ہے۔کہ وقت کو ہاتھ سے نہ گنوادے اور اس نور اور شفا کتاب قرآن شریف پر عملدر آمد کرے۔اپنے حال اور قال اور ہرکت اور سکون میں اُسے دستورالعمل بناوے۔(الحکم ۲۴؍ جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۳) اگر ہم حق کے شنوا ہوتے تو دوزخ میں کیوں جاتے۔اس سے ثابت ہوا کہ حق کا سُننا فرض ہے اور غیبت کا سننا حرام ہے۔سماع کے متعلق صوفیا میں بحث ہے۔میرے نزدیک سماع قرآن و حدیث ضروری ہے مگر ایک شیطانی سماع ہے کہ راگنی کی باریکیوں پر اطلاع ہو۔یہ ناجائز ہے۔( بدر ۳۰؍نومبر ۱۹۰۹ء صفحہ ۴) ۱۳۔۔: ڈرتے ہیں اﷲ تعالیٰ سے۔ڈرنے والوں کے لئے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔اسی کے متعلق دوسری جگہ قرآن شریف میں فرمایا ہے۔(الرّحمن:۴۷)۔جو