حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 170
ﷲ تعالیٰ کے حضور میں کھڑے ہونے کے وقت کے متعلق ڈرتا ہے۔اس کے واسطے دو جنّت ہیں۔بے خوف اور بے باک آدمی اصل میں خوف میں ہے۔خوف سے امن میں وہ ہے۔جس کے دل میں خدا کا خوف ہے۔ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے ؎ لَاتَخافُوْا مژدہ ترسندہ است ہر کہ می ترسد مبارک بندہ است خوف و خشیت خاصِ دانایاں بود ہر کہ دانا نیست کے ترساں بود ترسگاری رستگاری آورَد ہر کہ درد آرد عوص درمان درد ۱۵۔۔: کس نے پیدا کیا؟ اس میں آریاؤں کے اس عقیدہ کا ردّ ہے جو کہتے ہیں۔کہ خدا مادہ اور روہ کا پیدا کرنے والا نہیں ہے دلیل دی ہے۔ ( الحج:۶۴) کسی شئے کے پیدا کرنے کے واسطے اس شئے کا کامل علم لازم ہے۔خدا لطیف۔خبیر ہے۔رُوح اور مادہ کے متعلق اُسے کامل علم ہے کہ وہ کیونکر پیدا ہو سکتا ہے اور پھر اسے قدرت بھی ہے۔اگر خدا تعالیٰ نے کوئی ذرّہ اور رُوح پیدا ہی نہیں کیا۔تو اس کے متعلق کامل علم کیوں کر رکھ سکتا ہے۔۱۶۔ ۔: وہ خدا جس نے زمین کو تمہارے ماتحت کیا ہے۔: ایک جگہ سے دوسری جگہ چلے جاؤ۔یہ صحابہ ؓ کو حکم ہے کہ جہاں یہ سمجھو کہ اس جگہ ہمارا دین قائم نہیں رہتا۔اس جگہ کو چھوڑ دو۔ذَلُوْلٌ: اس اونٹنی کو بھی کہتے ہیں جس سے لادنے وغیرہ کا ہر قسم کا کام لیا جائے۔وہ جانور جو باربرداری کا کام دیں۔زمین بھی چلتی ہے اور تمام انسانوں اور مکانوں کو اپنے ساتھ اٹھائے پھرتی ہے۔اس آیت میں آریاؤں کا ایک ردّ ہے جو کہتے ہیں کہ جو کچھ ہمیں ملتا ہے۔وہ پہلے جنم اور تناسخ کا نتیجہ ہے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔خدا نے تمہیں زمین دی اور اسے تمہارے لئے مسخّر کر دیا۔بتلاؤ یہ تمہارے