حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 13 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 13

جنہیں حسب ان کے اعمال اﷲ تعالیٰ بہشت میں بھیجے گا۔اور قدم رکھنے کے اصل معنی ہیں روک دینا اور بیخکنی کر دینا۔جیسے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا۔جاہلیت کے خون میرے قدم کے نیچے رکھے گئے ہیں۔یعنی میں ان کے انتقاموں سے قوم کو منع کرتا ہوں اور ان کو مُسلتا ہوں۔۶۔رجل کے معنی قوم۔جماعت۔عربی زبان میں آتا ہے رجل مّن جرادٍیعنی ٹڈیوں کا ٹڈی دل جماعت۔اب کس قدر صاف معنی ہیں کہ ا ﷲ تعالیٰ جہنم کو فرمائے گا۔کیا تو بھر چکی۔وہ عرض کریگی۔کیا کچھ اور ہے تب اﷲ شریروں اور ظالموں اور انکی جماعت کو جو جہنم کے لائق ہیں۔سب کو جہنم میں ڈال دے گا۔خاصہ مطلب یہ ہو کہ نرگی اور جہنمی نرگ اور جہنم میں داخل کئے جاویں گے اور یہی انصاف و عدل ہے اب بتاؤ اس پر کیا اعتراض ہوا۔(نور الدّین طبع سوم صفحہ ۲۰۷۔۲۰۸) اسی آیت پر پادریوں کے اعتراض کے جواب میں فرمایا:۔’’ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ حدیث(یَضَعُ فِیْھَا رَبُّ الْعِزَّۃِ قَدَمَہٗ) کا مطلب صاف اور درست ہے مگر زبان اور محاورۂ عرب نہ جاننے کے سبب سے پادری صاحب اس بھُول بھُلیّاں میں جا پڑے ہیں خود ان کے چالاک ہاتھوں کی کرتوت ہے۔اصل منشاء آپ کے اعتراض کا جملہ (یَضَعُ فِیْھَا رَبُّ الْعِزّۃِ َقَدَمہٗ) ہے جس کا ترجمہ ہے رکھے گا اس میں عزّت والا اپنے قدم۔اب ہم آپ کو اُن الفاظ کا صحیح مطلب اور منشاء بتاتے ہیں۔جن سے آپ کو بوجہ عدمِ فہم زبانِ عرب دھوکہ ہوا ہے۔گو الفاظ تو صاف تھے۔اور محاورۂ عرب کی طرف ذرا ہی سے رجوع کرنے سے بآسانی حل ہو سکتے تھے۔مگر چونکہ عادۃً نصارٰی کا خاصہ ہے۔کہ کسی کلام کا اصل مقصد عمدًا یا جہلاً بدوں توضیح و تفسیر نہیں سمجھتے یا سمجھ نہیں سکتے اور یہ عادت نسلًا بعد نسلٍ حضرات حواریین سے وراثت میں انہیں ملی ہے کہ وہ سادہ مزاج حضرات بھی مسیحؑ کے کلام کو بدوں تفسیر و تمثیل سمجھ نہیں سکتے تھے۔اس لئے ضرور ہوا کہ ہم پوری تفسیر ان الفاظ کی کر دیں۔سنو! جواب نمبر۱۔پہلا لفظ جس پر پادری صاحب کو دھوکہ ہوا۔لفظ ربّ ہے۔سننا چاہیئے۔کہ ربّ کا لفظ بڑے بڑے آدمیوں پر بولا گیا ہے۔جیسے یوسف علیہ السلام کا قول اُس زندانی کو اُذْکُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّکَ کہ مجھے اپنے آقا کے رُوبرو یاد کرنا۔اور فرعون کہتا ہے۔اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی۔میں تمہارا ربّ ہوں۔یہ لفظ عام بڑے بڑے رئیسوں اور امیروں پر بھی اطلاق ہوتا ہے۔اس لئے اس کی جمع ارباب سے امراء ار دنیادار مُراد لئے جاتے ہیں۔اور ٹھیک اسی طرح عبرانی زبان میں بھی جسے عربی کے ساتھ مشابہت تامہ