حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 12 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 12

ایک آریہ کے اعتراض’’مفسر کہتے ہیں۔خدا اپنے دونوں پاؤں دوزخ میں ڈال دے گا اور جہنم کو سیر کر دے گا‘‘ کے جواب میں آپ نے تحریر فرمایا: ’’تمہارے یہاں پر میشور کا نام سرب بیاپک ہے۔تو کیا وہ نرگ میں نہیں۔قرآن کریم میں صرف اس قدر ہے کہ اور جو تم نے مفسروں کا قول نقل کیا ہے۔اس میں یہ ہے کہ جَھَنَّمَکہتی رہے گی حَتّٰی یَضَعَ رَبُّ الْعِذَّۃِ قَدَمَہٗ اور کہیں ہے یَضَعُ الْجَبَّارُ قَدَمَہٗ اور کہیں ہے حَتّٰی یَضَعَ اﷲُ رِجْلَہٗ پس قبل اس کے کہ تم کو مفصّل جواب دیں۔ضروری معلوم ہوتا ہے کہ الفاظ ذیل کے معنی لغت عرب سے لکھ دیں۔جھنم۔ربّ۔عزت۔جبّار۔قدم۔رجل ۱۔جَھَنَّم: دوزخ۔نرگ۔عذاب کی جگہ۔۲۔ربّ کے معنی بڑا پالن ہار۔یہ لفظ ا تعالیٰ پر بھی بولا گیا ہے اور دنیاداروں۔بڑے آدمیوں پر بھی۔فرعون نے کہا۔اَنَارَبُّکُمُ الْاَعْلٰی (نازعات:۲۵) یوسف علیہ السلام نے ایک قیدی کو جو رہا ہونے والا تھا۔فرمایا کہ (یوسف:۴۳)یعنی اپنے مالک و امیر کے پاس میرا ذکر کیجئیواور اسی رب کی جمع ارباب ہے جس کے متعلق فرمایا کہ (یوسف:۴۰) ۳۔عزت،بڑائی،حمایت،جاہلوں کی ہٹ،قرآن شریف میں شریروں کے متعلق فرمایا۔(بقرہ:۲۰۷) اور فرمایا ہے کہ جب شریر کو غذاب اور دُکھ دیا گیا تو کہا جائے گا (دخان:۵۰) پس ربّ العزّت کے یہ معنے بھی ہوئے۔متکبّر ضدّی۔ہٹ والا۔۴۔جبّار کے معنے مصلح کے بھی ہیں۔اور ظالم کے بھی۔مصلح کو تو عذاب ہو نہیں سکتا۔اور ظالم کے حق میں آیا ہے۔خَابَ کُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ۔مشکوٰۃ صفحہ ۴۹۶ میں ہے۔ھب ھب دوزخ میں ایک وادی ہے اس میں جبّار لوگ داخل ہوں گے۔۵۔قدم۔جس شخص کو کہیں بھیجا جاوے۔اُسے قدم کہتے ہیں۔قاموس اللُّغَۃ میں ہے قَدَمُہٗ اَیْ اَلَّذِیْنَ قَدَمُھُمْ مِنَ الْاَشْرَارِفَھُمْ قَدَمُ اﷲِ لِلنَّارِ۔کَمَا اَنَّ الْخِیَارَ قَدَمُ اﷲِ لِلْجَنَّۃِ۔وَ وَضْعُ القَدَمِ مِثْلَ الرَّوْعِ وَالْقَمْعِ۔احادیث میں ہے دِمَائُ الجھلیۃ موضوعۃِ تحت قَدَمِیْ۔ترجمہ قدم اس کا وہ بد لوگ ہیں جن کو وہ حسب ان کے اعمال کے آگ میں بھیجے گا۔جیسے کہ برگزیدہ لوگ بہشت کیلئے قدم اﷲ ہیں۔یعنی وہ