حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 164 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 164

یہ کہتے ہوئے کہ نہ ڈرو اور نہ غمگین ہو۔اور خوشی منا, اس جنّت کی کہ جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا۔ہم دنیا میں اور آخرت میں تمہارے ساتھی ہیں اور فرمایا ہے۔ (انفال: ۲۵) اور یقین جانو کہ اﷲ انسان اور اس کے دل کے درمیان روک ہو جاتا ہے اور اسی کی طرف تم اٹھائے جاؤ گے۔اور ان ملائکہ کے مدّ مقابل یا ضد ظلمت و ہلاکت۔دُوری اور عدم کے فرزند شیاطین اور ارواحِ خبیثہ ہیں۔ان کے تعلقات سے ان کی جماعت دوست بنتی ہے۔آخر اﷲ تعالیٰ پھر فرشتوں۔ملائکہ۔دیوتا یا اَہَرمَن ارواحِ خبیثہ۔اسر۔شیاطین کے تعلقات سے ان مظاہرِ قدرت سے تعلقات پیدا ہو جاتے ہیں۔پھر آخر کار اچھے لوگوں کو اور اچھے لوگوں سے پیوستگی ہو جاتی ہے۔اور بُروں کو اور بُروں سے۔بلکہ یہ تعلقات اس قدر ترقی پذیر ہوتے ہیں کہ ذرّاتِ عالم میں اچھے ذرّات کا اچھوں سے تعلق ہوتا ہے۔اور بُرے موزی دُکھ دائک ذرّات کا بُروں سے۔کیا کوئی شخص تاریخی مشاہدات اور تجاربِ صحیحہ سے ہمیں بتا سکتا ہے کہ آتشک اور خاص سوزاک جذام اور گھناؤنے اور گندے گندے امراض اور جان گدازناکامیاں ماموروں، مرسلوں اور ان کے پاک جانشینوں کو لاحق ہوتی ہیں یا ان کے مخالفوں کو؟ قرآن کریم کیسے زور سے دعوٰی فرماتا ہے کہ مقبولان و مقربانِ الہٰی کے یہ سچّے نشان ہیں۔اسی واسطے کوئی صحابی حضرت خاتم النّبیین بہرہ نہیں ہوا۔ ( المجادلۃ: ۲۳) ترجمہ: یہی لوگ خدا کی جماعت ہیں اور یاد رکھو۔خدا کی جماعت مظفر و منصور ہے اور فرمایا:  (منافقون:۹) ترجمہ: اور غلبہ سدا اﷲ اور اس کے رسول اور مومنوں کے لئے ہے لیکن منافق نہیں جانتے۔اور فرمایا:  ( مومن: ۵۲) ترجمہ : ہم ضرور کامیاب کرتے ہیں اپنے رسولوں اور مومنوں کو دنیا کی زندگی میں اور پیش ہونے والوں کے پیش ہونے کے دن میں۔