حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 163 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 163

کے تجارب میںآ چکی ہے اور وہ یہ ہے۔تمام عقلاء میں یہ امر مسلّم ہے۔کہ اس زمین کا کوئی واقعہ بدوں کسی سبب کے ظہور پذیر نہیں ہوتا۔بلکہ صوفیائے کرام اور حکمائے عظام اس بات پر متفق ہیں کہ کوئی امر حقیقت میں اتفاقی نہیں ہوا کرتا۔تمام امور علل اور حکم سے وابستہ ہوتے ہیں۔اب مَیں پوچھتا ہوں کہ تنہائی میں بیٹھے بیٹھے نیکی کا خیال بدوں کسی تحریک کے کیوں اٹھتا ہے۔بلکہ بعض وقت ایسا ہوتا ہے کہ ارد گرد بدکار بدیوں کے مرتکب ہوتے ہیں بلکہ بعض لوگوں کو دیکھا ہے کہ بدی کے عین ارتکاب و ابتلاء میں ان کو نیکی کی تحریک اور رغبت پیدا ہو جاتی ہے۔کوئی بتائے۔کہ اس تحریکِ نیک اور رغبتِ پسندیدہ کا وقوع کیوں ہوا؟ آیا بلاسبب اور اتفاقی طور پر؟ یہ تو باطل ہے۔کیونکہ تجارب نے اس کو باطل ٹھہرایا ہے۔پس لامحالہ نیکی کا محرّک ضرور ہے۔اسی نیکی کے محرّک کو اسلامی کتب اور شریعت میں مَلَک کہتے ہیں۔اور ان کے اس تعلق و تحریک کولِمَّۃُ الْمَلَک کہا گیا ہے۔وہ ملک لطیف اور پاک روحیں ہیں جنہیں قلوبِ انسانی سے تعلق ہوتا ہے اور ہر وقت قلوب کی تحریک میں لگے رہتے ہیں۔اور ان کے مدّ مقابل اور ان کی تحریک کے مخالف شیاطین اور ابلیسوں کی روحیں ہیں۔جو بدی اور بدکاری کی محرّک ہیں۔ان کے اس تعلق کا نام لِمَّۃُ الشَّیْطَان ہے۔ایمان بالملائکہ کے معنے اور اس کا فائدہ : شریعتِ اسلام میں حکم ہے کہ فرشتوں پر ایمان لا, اس کا مطلب یہ ہے کہ جب جب وہ تم کو نیکی کی تحریک کریں تو معًا اسی وقت اس نیکی کو کر لو تاکہ اس نیکی کے محرّک کا تعلق تم سے بڑھے اور وہ زیادہ نیکی کی تحریک دے بلکہ اس کی جماعت کے اور ملائکہ بھی تمہارے اندر نیکی کی تحریکیں کریں اور اگر اس تحریک کو نہ مانو گے۔تو اس ملکِ نیکی کے محرّک کو تم سے نفرت ہو جائے گی۔اس لئے ضروری ہوا کہ ملائکہ سے تعلق بڑھا تاکہ نیکی کی تحریک بڑھے اور آخر وہ تمہارے دوست بن جاویں۔قرآن کریم میں اس نکتہ کو یوں بیان فرمایا ہے۔ ۔  ۔(حٰم ٓ السجدۃ: ۳۱۔۳۲) ترجمہ: جن لوگوں نے کہا ہمارا رب اﷲ ہے ۱؎ پھر اس اقرار پر پختہ ہو گئے۔ان پر فرشتے اترتے ہیں ۱؎ ضمیمہ اخباربدر قادیان ۱۶؍ نومبر ۱۹۱۱ء