حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 155
خدا نے مجھے پہلے مریم کا خطاب دیا اور پھر نفخ روح کا الہام کیا۔پھر بعد اس کے یہ الہام ہوا تھا فَاَجَائَ ھَا الْمَخَاضُ اِلٰی جِدْعِ النَّخْلَۃِ قَالَتْ یَالَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْْْلَ ھٰذَا وَ کُنْتُ نَسْیًا مَنْسِیًّا۔یعنی پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے۔دردِزہ کھجور کی طرف لے آئی۔یعنی عوام الناس اور جاہلوں اور بے سمجھ علماء سے واسطہ پڑا جن کے پاس ایمان کا پھل نہ تھا۔جنہوں نے تکفیر و توہین کی اور گالیاں دیں اور ایک طوفان برپا کیا۔تب مریم نے کہا کہ کاش مَیں اس سے پہلے مر جاتی اور میرا نام و نشان باقی نہ رہتا۔یہ اس شور کی طرف اشارہ ہے جو ابتداء میں مولویوں کی طرف سے بحیثیت مجموعی پڑا اور وہ اس دعوٰی کو برداشت نہ کر سکے۔اور مجھے ہر ایک حیلہ سے انہوں نے فنا کرنا چاہا۔تب اس وقت جو کرب اور قلق ناسمجھوں کا شور و غوغا دیکھ کر میرے دل پر گزرا۔اس کا اس جگہ خدا تعالیٰ نے نّشہ کھینچ دیا ہے۔اور اس کے متعلق اور بھی الہام تھے جیسالَقَدْ جِئتِ شَیْئًا فَرِیًّا مَاکَانَ اَبُوْکِ امْرَئَ سَوْئٍ وَّ مَا کَانَتْ اُمُّکِ بَغِیًّااور پھر اس کے ساتھ کا الہام براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۲۱ میں موجود ہے اور وہ یہ ہے اَلَیْسَ اﷲُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ وَ لِنَجْعَلَہٗ اٰیَۃً لِلّنَّاسِ وَ رَحْمَۃً مِّنَّا وَ کَانَ اَمْرًامَّقْضِیًّا۔قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ ٓفِیْہِ تَمْتَرُوْنَ۔دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۱۶ سطر ۱۲،۱۳(ترجمہ) اور لوگوں نے کہا کہ اے مریم تو نے یہ کیا مکروہ اور قابلِ نفرین کام دکھلایا جو راستی سے دور ہے۔تیرا باپ اور تیری ماں تو ایسے نہ تھے مگر خدا ان تہمتوں سے اپنے بندہ کو بری کرے گا۔اور ہم اس کو لوگوں کے لئے ایک نشان بنا دیں گے اور یہ بات ابتداء سے مقدّر تھی اور ایسا ہی ہونا تھا۔یہ عیسٰی بن مریم ہے جس میں لوگ شک کر رہے ہیں۔یہی قولِ حق ہے۔یہ سب براہین احمدیہ کی عبارت ہے اور یہ الہام اصل میں آیاتب قرآنی ہیں جو حضرت عیسٰی اور ان کی ماں کے متعلق ہیں۔ان آیتوں میں عیسٰی کو لوگوں نے ناجائز پیدائش کا انسان قرار دیا ہے۔اسی کی نسبت اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم اس کو اپنا نشان بنائیں گے اور یہی عیسٰی ہے جس کی انتظار تھی اور الہامی عبارتوں میں مریم اور عیسٰی سے مَیں ہی مراد ہوں۔میری نسبت ہی کہا گیا کہ ہم اس کو نشان بنا دیں گے اور نیز کہا گیا کہ یہ وہی عیسٰی بن مریم ہے جو آنیوالا تھا۔جس میں لوگ شک کرتے ہیں۔یہی حق ہے اور آنے والا یہی ہے۔اور شک محض نافہمی سے ہے جو خدا کے اسرار کو نہیں سمجھتے اور صورت پرست ہیں حقیقت پر ان کی نظر نہیں۔(منقول ازضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۶؍نومبر ۱۹۱۱ء) خ خ خ