حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 11
کیا ہم پہلی پیدائش سے تھک گئے ہیں۔نہیں یہ لوگ نئی پیدائش سے شبہ میں ہیں۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۲۱۰) ۱۹۔۔مومن کو چاہیئے کہ ہر ایک چیز سے کوئی نہ کوئی نصیحت حاصل کرے۔گراموفون کو محض تفریح کا ذریعہ سمجھا گیا ہے۔انسان غور کرے تو اس کیلئے عبرت کا موجب ہے۔جس طرح ایک شخص کی آواز اس میں بند ہوتی ہے اور پھر اس کے تمام انداز محفوظ ہو جاتے ہیں اور عام مجالس میں ظاہر ہوتے ہیں۔اسی طرح اگر انسان یہ یقین رکھے کہ جو کچھ وہ بولے گا۔اس کا ریکارڈ بھرنے والے ٌ۔کے ماتحت پاس ہی موجود ہوتے اور اس کے اعمال و اقوال کا اثر ذرّاتِ عالم پر پڑ کر محفوظ رہتا ہے۔اور پھر یہ سب کچھ ظاہر ہو گا۔تو وہ کبھی ایسا جملہ نہ بولے، نہ کام کرے جو خلاف شریعت ہو۔کیا کوئی شخص جسے یقین ہو کہ میری آواز فونوگراف میں بھری جا رہی ہے۔کوئی ایسا فقرہ بولتا ہے جس سے اس کا ناپاک اور خبیث ہونا ظاہر ہوتا ہو؟ ہرگز نہیں! تو پھر باوجودیکہ کلامِ الہٰی میں نصّ صریح ہے کہ ۔وہ کیوں گندی باتیں کرے۔ایک دن آتا ہے۔کہ یہ سب کچھ ظاہر کیا جائے گا اس وقت جو ندامت اور فضیحت ہو گی۔وہ ایک شریف انسان کیلئے عذاب سے بڑھ کر ہے۔یاد رکھو کہ جو کچھ ہم منہ سے بولتے ہیں اسے محفوظ کرنے والے خداکے فرستادہ وجود ہوتے ہیں اور ہماری باتوں اور کاموں کا اثر ذرّاتِ عالم اور اعضاء انسانی پر پڑتا ہے۔قیامت کے دن گراموفون کی طرح یہ سب کچھ واپس ہو گا اور اس وقت فضیحت ہو گی۔اگر پہلے ہی سے ہم نہ سنبھل سکے۔(تشحیذالاذہان جلد ۷ نمبر۴ صفحہ ۱۷۶۔۱۷۷) ۳۰۔۔بدلتی نہیں بات میرے پاس اور میں ظلم نہیں کرتا بندوں پر۔( فصل الخطاب حصّہ دوم صفحہ ۱۴۴) ۳۱۔۔