حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 145 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 145

رَمزیست زسر قدرتش کُن فَیَکُوْن بادانشِ اُو یکیت بیرون و دروں در غیب و شہادت ذرّۂ نتواں یافت از دائرہ قدرت و علمش بیروں ایک آریہ کے اعتراض کہ ’’ سات آسمان باطل ہیں‘‘ کے جواب میں تحریر فرمایا:۔’’ اس کا جواب نمبرواردیتے ہیں۔اوّل ’’ سات آسمان اور سات زمینوں کی ہر کسی عالم بلکہ اہلِ علم۔ماہر تواریک و ہیئت و جغرافیہ نے نمبروار تردید کی ہے‘‘ مرد آدمی ! ان کا نام ہی لکھ دیا ہوتا؟ سنئے۔آپ کو ہم بتا دیں۔آپ نے تو منکرِ اہل علم کا نام نہیں لیا۔ہم ماننے والوں کے نام سناتے ہیں۔یوگؔ۔پاتنجل۔کرت سوتر نمبر۲۵، دیاس منی کی بھاس، ادھیا سوم۔سورج دھارنا کی نرنی میں لکھا ہے۔بُونکی اوپر بُھوَرْ سُوَرْ مَھنجَنْ تپ انترکھ سَتْ۔یہ سات آسمانی طبقات ہیں۔جو زمین کے اوپر ہیں۔اور مہیاتلؔ۔رساتلؔ۔اتلؔ۔ستل۔وتلؔ۔تلاتلؔ۔پاتالؔ۔یہ سات طبقات زمین کے نیچے ہیں۔اب بتایئے یہ آریہ ورتی اہل علم اور ہیئت دان اور جیاگرنی کے ماہر تھے۔یا نہ تھے؟ مگر یہ تو بتاؤ جنبوویپ کے گردلَوَنْ سمندرؔ اور شاکؔویپ کے گرد اکہیورس سمندر ( شہد) کشن ویب کے گرد سورا سمندر ( سراب)۔کرونج ویپؔ کے گرد سرپی سمندرؔ ( گھی) شامل ملؔدیپ کے گرد دوہی سندر۔گیؤ میددیپؔکے گرد۔کہیر سمندر پشکردیب کے گرد۔جل سمندر۔ان دیپوں کا بیان اور تشریح کسی جیاگرنی دان سے پوچھیں؟ پھر مَیں کہتا ہوں کہ زمین اور آسمان کا سات سات حصص پر منقسم ہونا سچی تقسیم ہے جو سراسر حق ہے اس کے ماننے میں بُطلان ہی کیا ہے۔کہ قرآن کریم نے اس کا ابطال نہیں کیا۔قرآن کریم اور احدیث صحیحہ میں سبع ارضین کا تذکرہ موجود ہے۔مگر یاد رہے۔موجودات مُرکبَّہَ کی تقسیم کئی طرح ہو سکتی ہے۔اگر اﷲ تعالیٰ نے یہ تقسیم فرما دی تو بُطلان کیا ہوا؟ اب ہم ایک ایسی بات کہتے ہیں۔جس کے سننے سے کسی منصف آریہ کو قرآن کریم کے سَبْعَ سَمٰوٰت کہنے میں انکار کی جگہ نہیں۔زمین سے لے کر جہاں تک فوق میں اﷲ تعالیٰ کی مخلوق ہے۔اس مخلوق کو اﷲ نے ایک تقسیم میں سات حصّوں پر تقسیم کیا ہے۔ہر ایک آسمان جس کا بیان اﷲ تعالیٰ نے قرآن میں کیا ہے۔ان کا بیان آیات ذیل میں موجود ہے۔اوّل وہ مقام جس میں ہمارے لئے کھانے کا سامان رکھا ہے۔جیسے فرمایا ہے۔(الذٰریٰت:۲۳) اور آسمان ہی میں تمہارے لئے رزق یعنی کھانے پینے کا سامان رکھا ہے اور وہ چیز ہے جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا۔