حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 144
سے نکل کر نور میں داخل ہو جاؤ گے۔ظلمت پانچ قسم کی ہے۔۱۔ظلمتِ فطرت۔انسان ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتے ہی جاہل ہوتا ہے۔۲۔ظلمتِ عادت۔بدعادات انسان کو بہت نقصان پہنچاتی ہیں اور انبیاء علیہم السلام اسی واسطے آتے ہیں کہ عاداتِ بد کو دنیا سے مٹا دیں۔۳۔ظلمتِ رسم۔رسم و رواج سے بھی بڑے نقصان مترتّب ہوتے ہیں۔بعض رسمیں اس وقت شروع ہوئیں جبکہ مسلمان امیر اور بادشاہ ہوتے تھے۔لیکن اب حالتِ فقر میں بھی ان پر چلنا چاہتے ہیں۔۴۔ظلمتِ جہل۔جاہل و نادان۔بہ سبب جہالت کے اپنے آپ کو عجیب عجیب تکالیف میں مبتلا کر لیتے ہیں۔۵۔ظلمتِ عدم استقلام۔بعص آدمی بڑے بڑے وعدے اور ارادے کرتے ہیں اور کام شروع کرتے ہیں مگر آخر نباہ نہیں سکتے۔جَنّٰتٍ: فرمایا۔وہ جنّت جس کے نیچے ندیاں بہتی ہیں۔ایمان اور عملِ صالہ سے مل سکتی ہے۔اس سورۂ شریف میں طلاق کے نہات ضروری مسئلہ کو حل کیا ہے۔یہود طلاق کے معاملہ میں بہت سختی کرتے تھے۔زرا ذرا سی بات پر طلاق دیتے تھے۔اور عیسائیوں کے درمیان سوائے زنا کے طلاق نہ ہو سکتی تھی۔افراط اور تفریط کو دور کیا گیا۔اور ایک درمیانی راہ سکھلائی گئی۔اور عورتوں کے حقوق قائم کئے گئے۔جن سے پہلی قومیں ناآشنا ہیں بلکہ اس وقت یورپ کا قانون لندن تک خاموش ہے۔اس سورہ شریفہ میں بار بار تقوٰی پر زور دیا گیا ہے۔لوگ عورتوں کے معاملہ میں تقوٰی سے دُور جا پڑے ہیں۔بعض لوگ اپنی عورتوں کو نہ آباد کرتے ہیں اور نہ طلاق دیتے ہیں۔بعض مارتے ہیں، تنگ کرتے ہیں۔بداخلاقی سے پیس آتے ہیں۔یہ بہت بڑی ظلم کی باتیں ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍ دسمبر ۱۹۱۱ء) ۱۳۔ ۔: کوئی چیز اﷲ تعالیٰ کے علم و قدرت کے دائرہ سے خارج نہیں۔ایک صوفی کہتا ہے ؎