حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 136 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 136

کو یہ کبھی سمجھ نہیں آتی۔آخر ایّام نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم میں ایک بھی منافق نہ رہا۔بلکہ یہ فرمایا۔ ( احزاب:۶۲) اﷲ تعالیٰ نے ارادہ کر لیا تھا کہ وہ تیری مجاورت میں بھی نہ رہیں۔(الحکم۱۰؍ فروری ۱۹۰۱ء صفحہ۶) عزّت اﷲ کے لئے اور اس کے رسول کے لئے اور مومنوں کے لئے۔منافقین ایسی باتوں سے بے علم ہیں۔پس مومن اور پھر ذلیل۔یہ غیر ممکن ہے۔مومن تو اسی دنیا میں بہشت پا لیتا ہے۔صحابہؓ کرام نے جب جاہلیت کے عقائدِ فاسدہ سے توبہ کی اور اسلام کے پاک عقائد اختیار کئے تو سب سے پہلی جنّت ان کے لئے یہی تھی۔پھر جب مکّہ سے مدینہ ہجرت کی، تو یہ بھی ان کے لئے جنّت ہی تھی۔پھر جب ملک پر ملک فتح کئے تو ایک دنیا کے فاتح کہلائے تو یہ بھی ان کے لئے جنّت تھی۔پھر جب دنیا سے کوچ کرنے پر پہلی منزل قبر ( قبروہ ہے جہاں انسان اپنے اعمال کے بدلہ میں بعد الموت رہتا ہے) بھی رَوْضَۃٌ مِنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ ہو گئی! نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم اپنی بیبیاں جنگ میں اپنے ساتھ رکھتے۔در اصل آپ ان جاہلوں کو یہ سمجھاتے تھے۔کہ دیکھو اﷲ تعالیٰ مجھے ذلیل نہیں کرتا۔ورنہ جنگ کیسے خطرہ کا موقعہ ہے اور دستور کے لحاظ سے بیبیوں کا قید میں پڑ جانا اور اَور طرح ذلیل ہونا ممکن ہے۔مگر اﷲ تعالیٰ میراحامی و ناصر ہے۔وہ مومن کے اعداء کو کوئی ایسا موقعہ نہیں دیتا۔(تشحیذالاذہان جلد ۷ نمبر۴صفحہ ۱۷۵) خ خ خ