حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 137
سُوْرَۃ التَّغَابُنِ مَدَنِیَّۃٌ ۲،۳۔ ۔ ۔لوگ یا تو اس واسطے کسی کی فرماں برداری کرتے ہیں کہ وہ پاک اور مقدّس ہے۔یا اس لئے کہ وہ بادشاہ ہے اگر نافرمانی کریں گے تو سزادیگا یا اس واسطے کہ وہ ہمارا محسن ہے۔ہم پر انعام کرتا ہے۔اس لئے اس کی اطاعت ضروری ہے۔اﷲ تعالیٰ اپنی اطاعت کی طرف اپنی انہی تین صفتوں کا ذکر فرما کر بلاتا ہے۔۔ ۔ملک بھی اسی کا، اور سب خوبیوں کا سرچشمہ بھی وہی اور ہر چیز پر قادر بھی وہی، وہی پیدا کرنے والا، وہی نگرانِ حال۔پس عبادت کے لائق بھی وہی۔اگر تم کسی کی اس لئے اطاعت کرتے ہو کہ وہ حسن رکھتا ہے۔تو یاد رکھو تمام کائنات کے حُسن کا سر چسمہ تو وہی ذاتِ بابرکات ہے۔کوئی خوبی اگر کسی میں ہے۔تو اس کا پیدا کرنیوالا وہی اﷲ ہے۔اسی طرح اگر تم کسی کی اس لئے اطاعت کرتے ہو کہ وہ مُحسن ہے۔تو سب محسنوں سے بڑا محسن تو اﷲ ہے۔جس نے تمہارے محسن کو بھی سب سامان اپنی جناب سے دیا۔اور پھر اس سامان سے تمتّع حاصل کرنے کا موقعہ اور قوٰی بھی اسی کے دیئے ہوئے ہیں۔اگر کسی کی طاعت اس لئے کرتے ہو کہ وہ بادشاہ حکمران ہے۔تو تم خیال کرو۔اﷲ وہ احکم الحاکمین ہے۔جس کا احاطہ سلطنت اس قدر وسیع ہے۔کہ تم اس سے نکل کر کہیں باہر نہیں جا سکتے۔چنانچہ فرماتا ہے۔