حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 127
ایک اور رنگ میں ادا کی اہے۔کہ ہم سے یہ اقرار لیتا ہے۔’’ دین کو دنیا پر مقدّم کروں گا ‘‘۔اب اس اقرار کو مدّ نظر رکھ کر اپنے عمل درآمد کو سوچ لو۔کہ کیا اﷲ تعالیٰ کے احکام اوامرونواہی مقدّم ہیں یا دنیا کے اعراض و مطالب؟ اس اقرار کا منشاء یہ ہے کہ ساری جزئیں اﷲ کے خوف کی اور حصولِ مطالب کی امید کی اﷲ تعالیٰ کے سوا نہ رہیں یعنی خوف ہو تو اسی سے۔امید ہو تو اسی سے ! وہی معبود ہو۔اسی کی عظمت و جبروت کا خوف ہو۔جس سے اطاعت کا چوش پیدا ہو۔ایسی اطاعت اور عبادت رُوح میں ایک تذلّل اور انکساری پیدا کرے گی۔جس سے سرور اور لذّت پیدا ہو گی۔اور عملی زندگی کو قوّت ملے لگی۔لیکن جب اﷲ تعالیٰ کی صفات پر کامل ایمان نہ ہو تو اس ایمان میں عملی قوّت پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔وہ اس کھائے ہوئے دانہ کی طرح ہوتا ہے جس میں نشوونما پانے کی خاصیّت باقی نہیں رہی۔غرض اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم نماز کے لئے جمعہ کے دن بلائے جاو تو بیع کو چھور کر ذکر اﷲ کی طرف ا جاؤ۔عام جمعوں میں چھٹی چھوٹی بیع ہے۔لیکن مسیح موعود کا وقت چونکہ عظیم الشان جمعہ ہے۔اس لئے اس وقت دجّال کا فتنہ بہت بڑی بیع ہے اس لئے فرمایا کہ اس کو چھوڑو اور ذکر اﷲ کی طرف آ جاؤ۔نتیجہ اس کا کیا ہے؟ اگر تم کو کچھ علم ہے تو یاد رکھو کہ یہ تمہارے لئے مفید ہے۔اس میں خیروبرکت ہے۔تمہارے لئے اﷲ تعالیٰ جس امر کو خیروبرکت کا موجب قرار دیتا ہے۔اس کو ظنّی یا وہمی خیال کرنا کُفر ہے! انسان چونکہ عواقب الامور اور نتائج کا علم نہیں رکھتا۔اس لئے وہ بعض اوقات اپنی کمزوریٔ علم اور کئی معرفت کی وجہ سے گھبرا جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے مامور کی صحبت میں رہنا یا اس کے پاس جانا اخراجات کو چاہتا ہے یا بعض تجارتی کاموں میں اس سے حرج واقع ہو گا۔دوکان بند کرنی پڑے گی۔یا کیا کیا عُزرات ترشتا ہے۔لیکن کدا تعالیف یقین دلاتا ہے کہ اس کی اواز سنتے ہی ہاضر ہو جانا خیروبرکت کا موجب ہے۔اس میں کوئی خسارہ اور نقصان نہیں۔مگر تم کو اس کا علم ہونا چاہیئے۔پس اس میں کوتاہی نہیں ہونی چاہیئے! ہاں ۔جب نماز ادا کر چکو تو زمین میں پھیل جاؤ۔اور اﷲ تعالیٰ کے فضل کو لو۔اس کا اصل اور گُر یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کو بہت یاد کرو۔نتیجہ یہ ہو گا کہ تم مظفر و منصور ہو جاؤ گے۔خدا کی یاد ساری کامیابیوں کا راز اور ساری نصرتوں اور فتوحات کی کلید ہے۔اسلام انسان کو بے دست و پا بنانا یا دوسروں کے لئے بوجھ بنانا نہیں چاہتا۔عبادت کے لئے اوقات رکھے ہیں۔جب ان سے فارغ ہو جاوے