حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 126
کا مصداق ہے اور قرآن آسمان پر اُٹھ گیا۔اور ہر طرف سے اسلام اور قرآن پر حملے ہونے لگے تو خدا کے اس وعدہ کا وقت آیا (الحجر:۱۰) اس حفاظت کی ضرورت ہے اور چونکہ وہ آسمان پر اُٹھ گیا ہے۔گویا اس کے دوسرے نزول کی صرورت ہے۔تب ہی تواٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ والی قوم تعلیم اور ہدایت حاصل کرے۔اس لئے اٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ والی قوم کا معلّم ضرور ہے کہ وہی احمدؐ ہو ( صلی اﷲ علیہ وسلم) جو مکّہ میں مبعوث ہوا تھا۔پس اس وقت وہی احمدؐ اپنے بروزی رنگ میں آیا ہے۔دیکھنے والے دیکھتے ہیں ! جن کو توفیق نہیں ملی وہ نہیں دیکھ سکتے! قرآن شریف میں یہ بھی پایا جاتا ہے۔کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا ایک نام ذکر بھی ہے۔اور جیسے قرآن کریم کی حفاظت کا وعدہ ا ﷲ تعالیٰ نے کیا ہے۔ویسے ہی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی حفاظت کا بھی وعدہ فرمایا تھا(المائدہ:۶۸) اور عجیب بات ہے کہ یہی وعدہ حضرت مسیح موعود سے بھی ہوا ہے۔ان ساری آیتوں پر غور کرنے سے مَیں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ یہ صحیح ہے کہ ذکر سے مراد اس آیت میں جمعہ کی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی آخری بعثت ہے جو بروزی رنگ میں مسیح موعود کی صورت میں ہوئی۔۱؎ یہ وہ ذکر ہے جو آکری خلیفہ کہلاتا ہے۔یہ وہ راہ ہے جو صراطِ مستقیم ہے۔پس اس طرف آ جاؤ اور اس وقت دجّالی تحریکوں کی طرف نہ جاو۔اس صراطِ مستقیم کی طرف آنے یا اُس ذکر کی طرف متوجّہ ہونے کا اتنا ہی مطلب نہیں ہے۔کہ مان لیا کہ وہ حق ہے اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔یہ ایمان زندہ ایمان نہیں کہلاتا جب تک اس میں عمل کی رُوح نہ ہو! یہ بالکل سچ ہے کہ ایمان بدوں عمل کے مُردہ ہے۔مَیں نے جس وقت حضرت امام کے منہ سے یہ سنا کہ تم میں سے بہت ہیں جو اس چشمہ پر پہنچ گئے ہیں جو زندگی کا چشمہ ہے مگر ابھی پانی نہیں پیا۔ہاں مُنہ رکھ دیا ہے! مَیں سچ کہتا ہوں کہ جس وقت سے مَیں نے یہ سُنا ہے۔میں بہت ہی ترساں ہوں اور استغفار پڑھتا رہا ہوں کہ خدا نہ کرے۔کہیں وہ مَیں ہی نہ ہوں!! لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اﷲُکے کہنے میں ہم سب یہ ااقرار کرتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود محبوب اور مطاع نہ ہو گا۔اور کوئی غرض و مقصد اﷲ تعالیٰ کے اس راہ میں روک نہ ہو گی۔اس امام نے اس مطلب کو ۱؎ الحکم ۱۴؍ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۔۴