حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 9 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 9

ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ ۸۱) ۱۶۔ ۔کہ مومن وہی ہوتے ہیں جو ایمان لاتے ہیں اﷲ پر اور ایمان لاتے ہیں اﷲ کے رسولؐ اور اگر ان پر کچھ مشکلات آ پڑیں تو کوئی شک و شبہ نہیں لاتے بلکہ ِ وہ اپنے مالوں اور جانوں سے خدا تعالیٰ کی راہ میں مجاہدہ کرتے لیکن وہ ایسا نہیں کرتے کہ کسی اور کی کمائی سے یا کسی اور کا مال حاصل کر کے خدا کی راہ میں خرچ کر دیں کیونکہ وہ سوچتے ہیں کہ پھر ان کو کہاں سے دوں گا اس لئے وہ خود کما کر اپنے مالوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔آجکل قحط کا زور ہوتا جاتا ہے۔مومن کو چاہیئے کہ اپنی روٹی کا ایک حصّہ کسی ایسے شخص کو دے دیا کرے جس کے پاس روٹی نہیں۔اگر اس میں سے نہیں دے سکتا تو کوئی پیسہ ہی سہی کہ وہ بیچارہ خرید کر کے ہی کھالیوے مومن آدمی کو تو خدا کی راہ میں جان دینے سے بھی دریغ نہیں ہوتا۔دیکھو آجکل سردی کا موسم ہے۔کسی شخص کو اوڑھنے کیلئے کپڑا دینے سے تم کو دریغ نہیں کرنا چاہیئے۔مومن کو جوں جوں ضرورتیں پیدا ہوتی رہیں۔سب میں شرکت لازمی ہے۔اس واسطے میں نے یہ آیات پڑھی ہیں۔کہ مومن وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں اﷲ پر اور اﷲ کے رسول پر ایمان ہوتا ہے۔اور وہ اپنے مال اور جانیں خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔کیونکہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہمارا خرچ کرنا ضائع نہیں جائے گا۔اور ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جو خدا کے نزدیک بھی صادق اور سچے مومن ہوتے ہیں۔اور پھر اس کے آگے فرمایا۔ْ کہ کیا تم لوگ زبانی دعوے کرنے سے اﷲ تعالیٰ کو اپنی دینداری جتلانی چاہتے ہو۔اﷲکے نزدیک تو تب ہی صادق ٹھہر سکو گے۔جب عملی طور پر دُکھوں دردوں اور مصیبتوں میں ثابت قدم رہو گے۔اور اپنے مالوں اور جانوں سے دوسروں کی غم خواری کرو گے اور محتاجوں اور غریبوں کی امداد کرو گے۔یاد رکھو۔دوسروں کی غم خواری بہت ضروری ہے لیکن یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کی توفیق سے ہو سکتا ہے۔اﷲ تعالیٰ ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔آمین۔( الحکم ۲۴؍ دسمبر ۱۹۰۷ء)