حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 8 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 8

ہم نے ہی تم کو پیدا کیا نر و مادہ سے اور تم کو قوموں اور قبائل پر تقسیم کی۔تاکہ ایک دوسرے سے تعارف رکھو اور تمہیں یاد رہے کہ خداکے یہاں تم میں سے وہی معزز ہے جو بڑا پرہیزگار ہے۔اور جان رکھو۔اﷲ تعالیٰ علیم و خبیر ہے۔( تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۲۷۴ نیز فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ ۵۳) ْ: یعنی تم میں سے معزّز اور زیادہ مکرّم وہ ہے جو زیادہ تر متّقی ہے۔جس قدر نیکیاں اور اعمال صالح کسی میں زیادہ ہوتے ہیں وہی زیادہ معزّز و مکرّم ہے۔کیا بے جاشیخی اور انانیت نہیں ہو رہی؟ پھر بتلاؤ۔اس نعمت کی قدر کی تو کیا کی؟ یہ اخوّت اور برادری کا واجبالاحترام مسئلہ اسلام کی دیکھا دیکھی اب اور قوموں نے بھی لے کیا۔پہلے ہندو وغیرہ قومیں کسی دوسرے مذہب و ملّت کے پیرو کو اپنے مذہب میں ملانا عیب سمجھتے تھے اور پرہیز کرتے تھے۔مگر اب شُدھ کرتے اور ملاتے ہیں۔گوکامل اخوّت اور سچّے طور پر نہیں۔مگر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف غور کرو کہ حضورؐ نے اپنی عملی زندگی سے کیا ثبوت دیا کہ زید جیسے کے نکاح میں شریف بیبیاں آئیں۔اسلامء مقدّس اسلام نے قوموں کی تمیزکو اٹھا دیا جیسے وہ دنیا میں توحید زندہ اور قائم کرنا چاہتا تھا اور چاہتا ہے۔اسی طرح ہر بات میں اس سے وحدت کی رُوح پھونکی اور تقوٰی پر ہی امتیاز رکھا۔قومی تفریق پر جو نفرت اور حقارت پیدا کر کے شفقت علیٰ خلق اﷲکے اصول کی دشمن ہو سکتی تھی اُسے دور کر دیا۔ہمیشہ کا منکر جب اسلام لاوے تو شیخ ؔکہلاوے۔یہ سعادت کا تمغہ یہ سعادت کا نشان جو اسلام نے قائم کیا تھا صرف تقوٰی تھا۔( الحکم ۵؍ مئی ۱۸۹۹ء صفحہ ۴) ۱۵۔  ۔اعراب نے کہا ہم ایمان لائے تو کہہ کہ تم مومن نہیں ہوئے لیکن بولو کہ ہم فرماں بردر ہوئے اور ابھی