حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 125
گئی تھی۔عجیب بات ہے کہ اس مسیح موعود کو آدم بھی کہا گیا ہے۔اور پھر یہ اور بھی مشابہت ہے کہ جیسے آدم کی تکمیل جمعہ کی آخری گھڑی میں ہوئی تھی اسی طرح پر اس مسیح موعود کے ہاتھ پر بھی اسلام کی تکمیلِ اشاعت کا کام رکھا گیا۔چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ (الصّف:۱۰) مفسّروں نے بالاتفاق تسلیم کر لیا ہے۔کہ یہ غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ہو گا اور حضرت امام نے(المائدۃ:۴) کے جو معنے کئے ہیں۔وہ آپ میں سے اکثروں نے سُنے ہوں گے۔وہ فرماتے ہیں کہ تکمیل سے دو قسم کی تکمیل مراد ہے۔ایک تکمیلِ ہدایت۔دوسری تکمیلِ اشاعت۔تکمیلِ ہدایت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وقت ہو چکی اور تکمیلِ اشاعت ہدایت کا یہ وقت آیا ہے۔یعنی یہ مسیح موعود کے وقت مقدّر تھی۔چنانچہ اس وقت دیکھتے ہو۔اشاعت کے کس قدر سامان اور اسباب پیدا ہو گئے ہیں۔اور پھر جیسے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔کہ ایک جمعہ کے ترک سے ۱ ؍ ۴ حصہ دل کا سیاہ ہو جاتا ہے۔اسی طرح پر یہ بھی مسلّم بات ہے۔کہ خدا کی وحی کے انکار سے سلبِ ایمان ہو جاتا ہے۔پھر کدا تعالیٰ کے مامور و مرسل مسیح موعود کے انکار سے سلبِ ایمان ہونا یقینی ٹھہرا اور پھر جمعہ میں ایک وقت ایسا ہے جو قبولیتِ عدا کا ہے۔اسی طرح پر جب خدا تعالیٰ کا کوئی برگزیدہ بندہ اصلاحِ خلق کے لئے آتا ہے تو وہ لیلۃ القدر کا وقت ہوتا ہے۔جس کی بابت قرآن شریف میں آ چکا ہے خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہَرٍ ہوتی ہے۔ان سارے امور کو اکٹھا کرو اور پھر سوجو اور دیکھو کہ کیا اب یہ وہ وقت نہیں؟ مَیں ایمان سے کہتا ہوں اور پھر اس پر پورا یقین رکھتا ہوں کہ یہ وہی وقت ہے! دجّال بھی موجود ہے!! اور مسیح موعود بھی ہے!! فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اﷲِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَ دو وقت ایسے آئے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے اُمّیوں میں اپنے رسول کو بھیجا ہے۔ایک وہ وقت تھا۔جب کُل دنیا پر تاریکی چھائی ہوئی تھی خصوصًا عرب میں اس وقت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی ضرورت تھی۔چنانچہ اﷲ تعالی نے اپنے وعدہ کے موافق اور ابراہیمؑ و اسماعیل ؑ کی دعا کے نتیجہ میں ان میں رسول مبعوث کیا اور اب آپ ؑ آئے۔تیرہ سو سال گزرنے کے بعد جب اسلام کی حالت پر اُمّیَت غالب ہو گئی اور اخلاقی اور ایمانی اور عملی قوتیں کمزور اور مُردہ ہو گئیں اور قرآن شریف کی طرف بالکل توجّہ نہ رہی بلکہ وہ وقت آ گیا کہ رَ(الفرقان:۳۱)