حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 123 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 123

ہے۔اور ہے۔جو مسیح موعود کو ماننے والی ہے۔اگرچہ عام طور پر عام مسلمان بھی اس حکم کے نیچے ہیں لیکن جو باوجود مسلمان اور مومن کہلانے کے مسیح موعود کا انکار کرتے ہیں۔وہ در اصل قرآن شریف کی اس آیت کے مصداق ہیں: (البقرۃ:۸۶) پس میں یقینی طور پر سچا مصداق اس آیت کا انہیں لوگوں کو مانتا ہوں جو کُل قرآن شریف پر ایمان لاتے ہیں اور عملی یا اعتقادی طور پر کسی حصّہ کا انکار نہیں کرتے ہیں غرض اﷲ تعالیٰ مومنوں کو مخاطب کر کے کہتا ہے۔کہ تم ذکر اﷲ کی طرف چلے آؤ۔صلوٰۃ کیا ہے؟ اس کا جواب خود اﷲ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں دیا ہے۔(العنکبوت: ۴۶) نماز تما م بے حیائیوں اور بدکاریوں سے روکتی ہے۔پس اگر نماز پڑھ کر بھی بے حیائیاں اور بدیاں نہیں رکتی ہیں تو سمجھ لینا چاہیئے کہ ابھی تک نماز اپنے اصل مرکز پر نہیں۔اور وہ سچا مفہوم جو نماز کا ہے وہ حاصل نہیں ہوا۔اس لئے میں تم سب کو جو یہاں موجود ہیں مخاطب کر کے کہنا چاہتا ہوں کہ تم اپنی نمازوں کا اسی معیار پر امتحان کرو اور دیکھو کہ کیا تمہاری بدیاں دن بدن کم ہو رہی ہیں یا نہیں۔اگر نسبتاً ان میں کوئی فرق وقع نہیں ہوا۔تو پھر یہ خطرناک بات ہے۔مختصر یہ کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب جمعہ کی نماز کے لئے بلایا جاوے تو اﷲ تعالیٰ کے ذکر کی طرف آ جاؤ ۱؎ یہ تمہارے لئے اچھا ہے۔اور بیع چھوڑ دو۔میں نے اس کے لفظ پر غور کی ہے کہ یہ کیوں کہا۔انسان مختلف مشاعل میں مصروف ہوتا ہے ملازمت ، حرفت، زراعت وغیرہ۔یہاں خصوصیت کے ساتھ بیع کا کیوں ذکر کیا ہے؟ حقیقت میں جو لوگ قرآن شریف پر غور کرتے ہیں اور اس کے نکات اور معارف سے بَہزَہ حاصل کرنا جاہتے ہیں۔ان کو ضروری ہے کہ وہ اس کی ترتیب اور الفاظ پر بڑی گہری نگاہ سے غور کیا کریں۔مَیں نے جب اس لفظ پر غور کیا تو میرے ایمان نے یہ شہادت دی کہ چونکہ یہ سلسلہ وَاٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ کے نیچے ہے اور یہ مہدی اور مسیح کا زمانہ ہے۔اس زمانہ میں دجّال کا فتنہ بہت بڑا ہو گا اور دجّال کے معنے کتب لُغت میں جو لکھے ہیں۔اس سے پایا جاتا ہے کہ وہ ایک فرقہ عظیمہ ہو گا جو تجارت کے لئے پھرے گا گویا یہ مشترکہ کمپنیاں تجارت کی طرف بلاتی ہوں گی۔اور ذکر اﷲ اور طرح۔اس لئے اس بیع کے لفظ میں دجّال کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔۱؎ الحکم ۷؍ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۴