حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 121 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 121

۸ تا ۱۱۔ ۔ ۔ ۔یہ کبھی بھی مردِ میدان ہو کر نہ نکلیں گے اور اَلْمَوْت کی تمنّا نہ کریں گے۔مباہلہ کے لئے نہ آئیں گے۔لوگوں کے سامنے چونکہ انکار نہیں کر سکتے۔اس لئے ایسی شرائط اور حجتیں پیش کریں گے۔جن کا آخری نتیجہ یہ ہو کہ مباہلہ نہ کرنا پڑے۔کیونکہ اپنی بداعمالیوں اور ایمانی کمزوریوں کو تو خوب جانتے ہیں۔صرف پردہ داری کے لئے حیلے بہانے کرتے ہیں اور دنیوی مفاد اور منافقوں کو نقصان سے بجانے کی خاطر یہ بجائے خود کیسی حیرت انگیز اور عظیم الشان تحدّی ہے جس میں مخالفوں کو غیرت بھی دلائی گئی ہے۔کہ کبھی بھی مباہلہ میں نہ نکلیں گے۔اب اگر وہ اپنی ذاتی شعور اور بصیرت سے اپنے ایمان میں قوّت پاتے ہیں اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو حق پر نہیں سمجھتے تو پھر کون سا امر ہے جو ان کو اس تمنّٰی سے روک سکتا ہے؟ وہ اتنا ہی غور کریں کہ اس میدان میں نہ نکلنے سے لَا یَتَمَنَّوْنَہٗ اَبَدًاکی پیشگوئی پورا کرنے والے تھیریں گے۔مگر آخر خدا تعالیٰ ہی کی باتیں سچّی اور لا تبدیل ہوتی ہیں۔یہی سچ ہے کہ وہ کبھی اَلْمَوْت کی تمنّٰی نہ کریں گے۔کیون کہ۔(التغابن:۵)۔(الجمعۃ:۹)