حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 118
تھے۔ان کی تصانیف سے پتہ لگتا ہے۔کہ ان کو قرآن شریف و احادیث سے کیا محبّت تھی۔نبی کریم محمد صلّی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تعلق تھا۔یہ بے نظیر مخلوقات تھی۔بڑا بدبخت ہے وہ جوان میں سے کسی کے ساتھ نقار رکھتا ہے۔یہ باتیں میں نے علی وجہ البصیرت کہی ہیں۔ایک نکتہ قابلِ یاد سنائے دیتا ہوں۔کہ جس کے اظہار سے مَیں باوجود کوشش کے رُک نہیں سکا۔وہ یہ کہ مَیں نے حضرت خواجہ سلیمان رحمۃ اﷲ علیہ کو دیکھا۔ان کو قرآن شریف سے بڑا تعلق تھا۔ان کے ساتھ مجھے بہت محبت ہے اٹھہتر برس تک انہوں نے خلافت کی بائیس برس کی عمر میں وہ خلیفہ ہوئے تھے۔یہ بات یاد رکھو کہ مَیں نے کسی خاص مصلحت اور خالص بھلائی کے لئے کہی ہے۔(بدر ۲۷؍ جنوری ۱۹۱۰ء صفحہ ۹) مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوْا التَّوْرَابِۃَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْھَا کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا۔ان لوگوں کی مثال جن پر توریت اٹھوائی گئی۔پھر انہوں نے اس کو نہ اٹھایا گدھے کی مثال ہے جس پر کتابیں لدی ہیں۔یاجوج و ماجوج دونوں قوموں کی نسبت بعص مصنفوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ دراز گوش ہیں اور اس فقرہ کے سمجھنے میں بہت لوگوں نے جو مقدس کتابوں کی طرزِ کلام سے بالکل ناآشنا ہیں۔کئی غلط نتیجے نکالے ہیں مگر وہ یاد رکھیں کہ درازگوش گدھے کو کہتے ہیں اور جو آدمی علم کے مطابق عمل نہ کرے۔اسے بھی الہامی زبان میں گدھے سے تشبیہ دی گئی ہے۔دیکھو! قرآن میں آیا ہیمَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوْا التَّوْرَابِۃَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْھَا کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا۔اور ظاہر ہے کہ روسی اور انگریز، جرمن اور ڈنمارک والے الہٰیات کے سچّے علوم اور روحانی برکات سے بالکل محروم ہیں۔علمِ الہٰیات ان کا نہایت کمزور ہے اور مجھے پختہ یقین ہے کہ ہمارے علمی مذاق والے آریہ بھی اس کے ماننے سے انکار نہیں کر سکیں گے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۷۲۔۷۳) محرومی کے اسباب سے بچو۔ان اسباب کا علم قرآن مجید میں موجود ہے۔جو قرآن شریف پر تدبّر کرنے سے آتا ہے اور اس کے ساتھ تقوٰی کی بھی شرط ہے۔میں سچ کہتا ہوں… یہ علوم جو قرآنِ مجید میں بیان ہوئے ہیں درس و تدریس سے آہی نہیں سکتے بلکہ وہ تقوٰی اور محض تقوٰی سے ملتے ہیں… اگر محض درس و تدریس سے آ سکتے تو پھر قرآنِ مجید میں مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوْا التَّوْرَابِۃَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْھَا کَمَثَلِ الْحِمَارِکیوں ہوتا؟ (الحکم ۱۰؍ مئی ۱۹۰۵ء صفحہ ۵) ۷۔