حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 117 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 117

مشہور پیر قافلہ جنیدؒ بغدادی ایک دفعہ بچہ ہی تھے کہ مکّہ معظمہ اولیاء کرام کی صحبت میں چلے گئے جہاں محبتِ الہٰی پر مکالمہ ہو رہا تھا۔ان لوگوں نے کہا۔کہ کیوں میاں لڑکے تم بھی کچھ بولو گے تو انہوں نے بڑی جرأت سے کہا۔کیوں نہیں۔اس پر انہوں نے کہا لَہٗ عَھْدٌ ذَاھِبٌ عَنْ نَّفْسِہٖ۔مُتَّصِلٌ بِذِکْرِ رَبِّہٖ۔قَائِمٌ بِاَدَائِ حَقِّہٖ اِنْ تَکَلَّمَ فَبِاﷲِ وَ فِی اﷲِ وَ اِنْ تَحَرَّکَ فَبِاَمْرِ اﷲِ۔وَ اِنْ سَکَنَ فَمَعَ اﷲِ۔جس کے مختصر معنے یہ ہیں کہ صوفی وہ ہے جو اپنا ارادہ سب چھوڑ دے۔کام کرے مگر خدا کے حکم سے۔ہر وقت خدا کی یاد سے اس کا تعلق وابستہ رہے۔وہ بیوی سے صحبت کرے مگر اس لئے کہ عَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ کا حکم ہے۔کھانا کھائے مگر اس لئے کہ کُلُوْا۔خدا کا حکم ہے۔یہ بڑا سخت مجاہدہ ہے۔میں نے خود تجربہ کر کے دیکھا ہے۔آٹھ پہر میں انسان اس میں کئی بار فیل ہو جاتا ہے۔اِلاّٰ مَنْ عَصَمَہُ اﷲُ غرض وہ شخص اﷲ کے تمام احکام ادا کرتا ہے۔جب بولتا ہے تو خدا کی تعلیم کے مطابق۔ہلتا ہے تو اﷲ کے حکم سے ٹھہرتا ہے تو اﷲ کے ارشاد سے۔یہ سن کر سب چیخ اٹھے کہ یہ عراقی لڑکا تاج العارفین نظر آتا ہے۔ان کے اتباع بہت لوگ نظر آتے ہیں۔غرض معلّمین میں سے ایک گروہ تو فقہاء کا تھا۔چنانچہ امام ابوحنیفہؓ۔شافعیؒ۔مالکؒ۔احمد بن حنبلؒ۔داؤدؒ۔امام بخاریؒ۔اسحاق بن راہویہ۔رحمھم اﷲ۔یہ سب لوگ حامیٔ اسلام گزرے ہیں۔انہوں نے بادشاہوں کا ہاتھ کوب بٹایا۔دوسرا گروہ متکلمین کا ہے جن میں امام ابوالمنصور الماتریدی۔الامام ابوالحسن الاشعری۔ابنِ حزم۔امام غزالی۔امام رازی۔شیخ یتمیہ۔شیخ ابن قیّم رحمھم ہیں، تیسرا گروہ جنہوں نے احسان کو بیان کیا ہے۔سیّد عبدالقادر جیلانیؒ بڑا عظیم الشان انسان گزرا ہے۔ان کی دو کتابیں بہت مفید ہیں۔ایک اَلْفَتْح املرَّبَّانیِ۔دومؔ فتوہ الغیب۔دوسرا مردِ خدا شیخ شہاب الدّین سہروردیؒ ہے۔جنہوں نے ’’ عوارف‘‘ لکھ کر مخلوق پر احسان کیا ہے۔تیسرا آدمی جس کے بارے میں بعض علماء نے جھگڑا کیا ہے۔مگر مَیں تو اچھا سمجھتا ہوں۔شیخ محی الدّین ابن عربیؒ ہے۔پھر ان سے اتر کر امام شعرانیؒ ہیں پھر محمد انصاریؒ ہیں۔ہزار صدی کے بعد شاہ ولی اﷲ صاحب ہیں۔مجدّد الف ثانی ہیں۔ان لوگوں نے دینی تصنیف پر زور دیا ہے۔مگر صرف روحانیت سے۔ہندوستان میں جنہوں نے اﷲ تعالیٰ کا نام سکھایا ہے۔ان میں حضرت معین الدّین چشتیؒ ہیں۔حضرت قطب الدّین بختیار کاکیؒ ہیں۔حضرت فریدالدّین شکر گنجؒ ہیں۔حضرت نظام الدّین محبوب الہٰی ہیں۔حضرت نصیر الدّین چراغ دہلی ہیں۔رحمہم اﷲ۔یہ سب کے سب خدا کے خاص بندے