حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 116
لیکن ہماری صرف صورتِ احوال تھی۔اگر ہم میں عقل ہوتی تو زمانہ کی حالت کو دیکھ کر آنے والے کی تلاش کرتے۔مگر میں پھر بھی اﷲ تعالیٰ کے بڑے فضل کا شکریہ کرتا ہوں کہ اُس نے مجھے ٹھوکر نہ کھانے دی۔بلکہ میری حفاظت فرمائی ۱؎۔ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا: اُمُّ الْقُرٰی کی طرف نسبت کرنے میں اُمّی بولتے ہیں…پس اُمّی کے معنے ہوئے۔اُمّ القرٰی کا رہنے والا۔اور امّ القرٰی مکّہ کا نام ہے۔پس ان پڑھ کے معنے خواہ مخواہ لے لئے۔موقع مناسب آگا پیچھا دیکھ کر معنے کرنا چاہیئے تھا اور سچ یہ ہے کہ جہاں کوئی ہادی بھیجا جاتا ہے۔اُسی بستی کو اس ہادی کے زمانے میں اور بستیوں کا اُمّ جس کے معنے اصل کے ہیں کہا جاتا ہے ثبوت۔یَبْعَثُ فِیْ اُمِّھَا رَسُوْلًا (القصص:۶۰) قرآن میں ہے پھر اس لحاظ سے بھی مکّہ معظمہ کو اُمّ اور اُمّ القرٰی کہا گیا۔اور ہر مامور کی بستی اُمّ ہوا کرتی ہے۔(نور الدّین طبع سوم صفحہ ۲۳۰) یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْھِمْ وَ یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ: یعنی پہلے لوگوں کو احکامِ الہٰی سنائے جاویں۔ان کو کتاب و حکمت سکھائی جاوے۔پھر ان کا تزکیہ ہو۔تین مرتبے ہیں۔یَتْلُوْا۔یُعَلِّمُھُمْ۔َیُزَکِّیْھِمْ۔حدیث میں ان کو اسلام۔ایمان۔احسان سے تعبیر فرمیا گیا ہے۔رسول کریم صلی ا ﷲ علیہ وسلم جب اپنا فرماں بردار کسی کو دیکھتے تو پھر اس کے لئے دعائیں کرتے اور اسی طرح پر اﷲ کا فضل خصوصیّت سے اس پر نازل ہوتا اور خدا تعالیٰ خود اس کا متولّی ہو جاتا۔صحابہؓ میں سے بعص خواص ایسے تھے کہ ان سے بہت کم احادیث سناتے۔جیسے خلفائے راشیدن بالخصوص حضرت ابوبکرؓ۔مگر جو حدیھیں انہوں نے سنائیں۔وہ ایسی جامع ہیں کہ ان سے بہت سے احکام نکل سکتے ہیں۔بعد اس کے جب لوگوں میں کمی آ گئی۔تو صحابہ ؓ کے آخری اور تابعین کے ابتدائی زمانہ میں بادشاہ الگ ہو گئے اور معلّم لوگ الگ۔جو معلّم اسلام کے تھے وہ فقہاء کہلائے۔گویا ایک طرف بادشاہ تھے اور ایک طرف فقہاء جن کے ذمّہ تعلیم کتاب اور تزکیہ یا احسان کا کام تھا۔یہی اہل اﷲ تھے۔چونکہ ایک وقت میں دو خلفاء بیعت نہیں لے سکتے۔اس لئے ان لوگوں نے بجائے بیعت کے کچھ نشان اپنی خدمت گزاری کے مقرر کر لئے۔۱؎ الحکم ۱۷؍ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۴