حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 115 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 115

مَیں اسی مجلس میں ایک شخص کو بطور شہادت پیس کر سکتا ہوں اور وہ ایڈیڑ الحکم ہے کہ ایک طبیب نے جو اشتہاری ہے مجھے اس کی معرفت پیغام دیا کہ تم میرا علاج کرو۔تمہارے یہاں اولاد ہو جاوے گی۔مَیں نے اس کو یہی جواب دیا کہ مجھے محض اولاد کی ضرورت نہیں بلکہ سعادت مند اولاد کی ضرورت ہے۔اگر اس کا کوئی نسخہ تمہارے پاس ہو تو میں کئی ہزار روپیہ دینے کو تیار ہوں۔اس کا جواب اس نے کچھ نہ دیا! غرض میں نے اس لدھیانوی معترض کی تحریر کا کچھ بھی لحاظ نہ کیا اور اس پر کوئی توجہ نہ کی۔مگر میرے آقا امام نے اس پر توجہ کی تو اس کو وہ بشارت ملی جو انوار الاسلام کے صفحہ ۲۶ پر درج ہے۔اور پھر اس کے چند برس بعد یہ بچہ جس کا نام عبدالحی پیدا ہوا۔اسی کشف کے مطابق اس کے جسم پر بعض پھوڑے نکلے جن کے علاج میں میری طبابت گُرو تھی۔عبادالحی کو ان پھوڑوں کے باعث سخت تکلیف تھی۔اور وہ ساری رات اور دن بھر تڑپتا اور بے چین رہتا۔جس کے ساتھ ہم کو بھی کرب ہوتا مگر ہم مجبور تھے۔کچھ نہ کر سکتے تھے۔ان پھوڑوں کے علاج کی طرف بھی اس کشف میں ایماء تھا۔اور اس کی لایک جزو ہلدی تھی۔اور اس کے ساتھ ایک اور دوائی تھی جو یاد نہ رہی تھی۔ہم نے اس کے اضطراب اور کرب کو دیکھ کر جاہا۔کہ ہلدی لگائیں آپ نے کہا۔مَیں جرأت نہیں کر سکتا کیونکہ اس کا دوسرا جزو یاد نہیں۔مگر ہم نے غلطی کھائی اور ہلدی لگا دی جس سے وہ بہت ہی تڑپا اور آکر ہم کو وہ دھونی پڑی۔اس ہمارا ایمان تازہ ہو گیا۔کہ ہم کیسے ضعیف اور عاجز ہیں کہ اپنے قیاس اور فکر سے اتنی بات نہیں نکال سکے اور یہ مامور اور مرسلوں کی جماعت ایک مشین اور کَل کی طرح ہوتے ہیں اُس کے چلانے والا اﷲ تعالیٰ ہی ہوتا ہے۔اس کے بلائے بغیر یہ نہیں بولتے۔غرض میرا ایمان ان نشانوں سے بھی پہلے کا ہے۔اور یہ خدا کا فضل ہے کہ اس نے ہم کو نشان کے بغیر نہیں چھوڑا۔سینکڑوں نشان دکھادئے۔اور خود میرے ہی گھر میں نشان موجود ہے۔جس کا میں نے ذکر بھی کیا ہے۔یہ بات بھی یاد رکھو کہ جو لوگ اپنا ایمان کسی نشان سے مشروط رکھتے ہیں۔وہ ٹھوکر کھاتے ہیں کیونکہ وہ اﷲ تعالیٰ کو آزمانا چاہتے ہیں اور اس سُوء ادبی اور اور جُرأت کی سزا ان کو یہ ملتی ہے کہ وہ محروم رہ جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اقتراحی معجزات مانگتے ہیں۔ان کو کوئی نشان نہیں دیا جاتا۔مَیں نے اب بھی ایسے لوگ دیکھے ہیں جو اس قسم کے اعتراض اور جرأت کیا کرتے ہیں کہ اتنے عرصہ میں فلاں قسم کا عذاب ہم پر آ جائے۔وہ اﷲ تعالیٰ کو اپنی عقل اور حدکے پیمانہ میں محدود کرنا چاہتے ہیں۔اور اس پر حکومت کی خواہش کرتے ہیں حالانکہ اَﷲُ غَالِبٌ عَلٰی اَمْرِہٖاس کی شان ہے۔مختصر یہ کہ ہم محتاج تھے اور قحط زدہ تھے۔فطرتاً ہم چاہتے تھے کہ اس وقت ہماری دستگیری کی جاوے