حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 112 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 112

سچّی محبّت سے پیدا ہوتی ہے۔اور محبت محسن کے احسانوں کی یاد سے بڑھتی ہے۔جو شخص اس محسن اور عنایت فرما کی خلاف ورزی کرتا ہے جو بلاوجہ اور بلا مُزد مروّت و احسان کرتا ہے۔وہ سب سے زیادہ سزا کا مستحق ہوتا۔اسی لئے ابوالحنفاء کے مُنہ سے قرآن سریف میں اَب آذر کو یہ کہلوا دیا۔(مریم:۴۶) یعنی جس نے بلاوجہ تم پر احسان کیا۔تیرا قلب اچھا ہوتا تو اس کی محبت میں تو ترقی کرتا۔برخلاف اس کے تُو نے بُتوں کی پرستش کی۔پس اس رحمانی صفت کے انکار کی وجہ سے عذاب بھی شدید آئے گا۔پھر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اس پہلو سے بھی رحمانیت کے مظہر تھے۔کہ آپؐ قرآن جیسی رحمت شفاء۔نور۔امام کتاب لے کر آئے۔اور قرآن کا نزول رحمانی صفت ہی کا اقتضاء تھا۔جیسے فرمایا۔اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ۔قرآن کا نزول چونکہ اس صفت کے نیچے تھا۔آپؐ جب معلّمِ القرآن ہوئے تو اسی صفت کے مظہر بن کر باوجود اس کے کہ اُن سے دُکھ اٹھائے۔مگر دُعا، توجہ، عقدِ ہمّت اور تدبیر کو نہ چھوڑا۔یہاں تک کہ آخر آپؐ کامیاب ہو گئے۔پھر جن لوگوں نے آپؐ کی سچّی اور کامل اتباع کی ان کو اعلیٰ درجہ کی جزا ملی اور ان کی تعریف ہوئی۔اس پہلو سے آپؐ کا نام احمد ٹھہرا۔کیونکہ دوسرے کی تعریف جب کرتا ہے جب فائدہ دینا ہے۔چونکہ آپؐنے عظیم الشان فائدہ دنیا کو پہنچایا، اس لئے آپ کی تعریف بھی اسی قدر ہوئی اس سے بڑھ کر کیا فائدہ ہو گا کہ ابدالآباد کے لئے خلافت کاسلسلہ آپؐ کے کامل متّبعین میں رکھ دیا۔(النور: ۵۶) اسی وعدہ حقّہ اور صادقہ کے موافق آج بھی خدائے تعالیٰ نے خاتم الخلفاء کو بھیجا ہے! غرض خدا میں جو رحمن و رحیم کی صفات تھیں ، محمد و احمد میں وہ جلوہ گر ہوئیں۔اس لئے وہ اپنے سچے غلاموں میں دونوں باتیں پیدا کر دیتا ہے۔اور یہ دیکھا گیا ہے کہ جس قدر مصلحان اسلام میں ہوئے ہیں وہ یا اسمِ محمدؐکے نیچے تھے یا اسمِ احمدؐکے۔مَیں نے دیکھا ہے کہ علماء ایک بڑی بھاری غلطی کے مرتکب ہوئے ہیں۔جب کہ وہ تمام مختلف پیشگوئیاں جو مختلف اشخاص کے حق میں ہوئی ہیں۔ایک ہی آدمی میں جمع کرنا چاہتے۔ کی آیت بھی اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ معود خلیفے ایک سے زیادہ ہوں گے۔پھر کیوں سعی کی جاتی ہے کہ سب کا مصداق ایک ہی ہو۔مختلف مہدی ہوئے اور اپنے اپنے وقت پر ہو گزرے۔مسیح بھی ایک مہدی ہے اور وہ اب موجود ہے۔مگرذٰلِکَ فَضْلُ اﷲِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ جس کو چاہتا ہے فضل دیتا ہے!