حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 111
حالات ظاہر ہو گئے ہیں۔کوئی مذہب ایسا نہیں رہا جو اس وقت دنیا میں موجود ہو اور اس کے عقائد اور متعلقات پبلک کے سامنے نہ آئے ہوں۔جب یہ حالت ہے تو پھر مَیں مسلمانوں سے خطاب کر کے پوچھتا ہوں کہ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ( الصّف: ۱۰)کا وقت کب آئے گا؟ اور علامات اور واقعات سے اگر تم استدلال نہیں کرتے تو مجھے اس کا جواب دو کہ مذاہبِ مختلفہ کا ظہور تو اب ہو چکا ہے وہ رسول اُس وقت کہاں ہے۔جس نے اسلام کو جمیع طِل پر غالب کر کے دکھانا ہے؟ الغرض انسان کی اپنی ضرورتیں ، پس و پیش کی ضرورتیں ، اعمال کا مقابلہ، عقل اور فطرت کے ساتھ عقلاء کی گواہیاں، راست بازوں کی گواہیاں، اپنے نفس کی گواہیاں، موجودہ ضروریات کیا کافی نہ تھیں یہ ثابت کرنے کے واسطے کہ یہ زمانہ امام کا زمانہ ہے۔بے شک یہ ساری شہادتیں کافی ہیں کہ یہ امام کا زمانہ ہے! اور یہ سچ ہے کہ کوئی درخت جڑھ کے سوا۔کوئی کام ایک مخزن کے سوا نہیں چلتا۔آخر خدا ہی کا فضل ہوا۔ذٰلِکَ فَضْلُ اﷲِ یُوْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ۔ون اﷲُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۔۱؎ ا ﷲ تعالیٰ بڑے ہی فضلوں کا مالک ہے۔یہ اُسی کا فضل ہے کہ وہ کس کے زمانہ میں امام، معلّم، مزکّی، تالی بھیج دیتا ہے۔اور کوئی قوم کا درد مند انسان مبعوث فرما دیتا ہے! محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اُسی کے فضل اور رحم کا ایک عظیم الشان نمونہ تھا۔آپؐ کی بعثت اﷲ تعالیٰ کی رحمانی صفت کے انتہائی تقاضے کا نتیجہ تھی۔اسی نے فرمایا۔وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِلّعْٰلَمِیْنَ ( انبیاء: ۱۰۸)محمّد وہی ہوتا ہے جس کی تعریف کی جاتی ہے۔آپؐ کے نام ہی میں رحمانیت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ تعریف اسی کی کی جاتی ہے جو بلا مزدوری کام آئے اور شفقت فرمائے۔اگر مزدوری بھی لے تو تعریف کیسی؟ بے وجہ عنایت فرما کی ہی تعریف ہوتی ہے اور بے مانگے دینے والا رحمن ہوتا ہے۔پس محمد صلی اﷲ علیہ وسلم رحمن کا مظہر ہوئے۔اس قسم کے رحیم و کریم عنایت فرما کے احکام کی خلاف ورزی ایک شریر النفس اور ناپاک فطرت انسان کا کام ہے۔کیونکہ فطرتی طور پر بمصداق جُبِلَتِ الْقُلُوْبُ عَلٰی حُبِّ مَنْ اَحْسَنَ اِلَیْھَا محسن کی محبت دل میں پیدا ہوتی ہے اور محبت کا شدید تقاضا اس کی اتباع ہے۔اس لئے فرمایاگیا: (آل عمران:۳۲) جو چاہتا ہے کہ وہ مولیٰ کریم کا محبوب ہو۔اس کو لازم ہے کہ وہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی اتباع کرے اور الحکم ۲۴ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۳۔۴