حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 107
یتے ہیں۔باتوں ہی باتوں میں سمجھا دیئے جاتے ہیں کہ اگر وہ اعتراض علماء کے سامنے کئے جاتے ہیں تو ان پر کفر کے فتوے جڑے جاتے ہیں۔ان اعتراضوں کا جو بُرا اثر پڑتا ہے اس کے متعلق میں ایک قصّہ بیان کرتا ہوں۔مگر یاد رکھو کہ مَیں قصّہ گو نہیں۔بلکہ دردِ دل کے ساتھ تمہیں اسلام کی حالت دکھانی چاہتا ہوں۔میری غرص کسی پر نکتہ چینی کرنا نہیں ہے اور نہ ہنسانا مقصود ہے۔بلکہ اصلیت کا بیان کرنا مدّ نظر ہے۔میںایک ریل میں سفر کر رہا تھا۔جس کمرہ میں مَیں بیٹھا ہوا تھا۔اسی کمرہ میں ایک اور بڈھا شخص بیٹھا ہوا تھا۔ایک اور شخص جو مجھے مولوی صاحب کہہ کر مخاطب کرنے لگا۔تو اس دوسرے شخص کو بہت بُرا معلوم ہوا اور اس نے کھڑکی سے سر باہر نکال لیا۔وہ شخص جو مجھ سے مخاطب تھا اس کے بعض سوالوں کا جواب جب میں نے دیا تو اس بڈھے نے بھی سر اندر کر لیا اور بڑے غور سے میری باتوں کو سُننے لگا اور وہ باتیں مؤثرمعلوم ہوئیں۔پھر خود ہی اس نے بیان کیا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ میں نے کیوں سر باہر کر لیا تھا۔میں نے کہ۔کہ نہیں اس نے بیان کیا کہ مجھے مولویوں کے نام سے بڑی نفرت ہے۔اس شخص نے جب آپ کو مولوی کر کے پکارا تو مجھے بہت بُرا معلوم ہوا۔لیکن جب آپ کی باتیں سُنیں تو مجھے اُن سے بڑا اثر ہوا۔میں نے پوچھا کہ مولویوں سے تمہیں کیوں نفرت ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے لدھیانہ میں ایک مولوی صاحب کا وعط سُنا! اس نے دریائے نیل کے فضائل میں بیان کیا۔کہ وہ جَبَلُ الْقَمَرسے نکلتا ہے۔اور اس کے متعلق کہا کہ چاند کے پہاڑوں سے آتا ہے۔میں نے اس پر اعتراض کیا تو مجھے پٹوایا گیا۔اس وقت مجھے اسلام پر کچھ شکوک پیدا ہو گئے۔اور میں عیسائی ہو گیا اور بہت عرصہ تک عیسائی رہا۔پھر ایک دن پادری صاحب نے مجھے کہا کہ ایک نئی تحقیقات ہوئی ہے۔دریائے نیل کا منبع معلوم ہو گیا ہے۔اور اس نے بیان کیا۔کہ جبل القمر ایک پہاڑ ہے وہاں سے دریائے نیل نکلتا ہے۔میں اس کو سُن کر رو پڑا۔اور وہ سارا واقعہ مجھے یاد آگیا۔ایک عیسائی نے مجھے مسلمان بنا دیا۔اور ایک مولوی نے مجھے عیسائی کیا۔اس وجہ سے میں ان لوگوں سے نفرت کرتا تھا۔مگر آپ اُن میں سے نہیں ہیں۔میں سچ کہتا ہوں کہ اس کی یہ کہانی سُن کر میرے دل پر سخت چوٹ لگی کہ اﷲ ! مسلمانوں کی یہ حالت ہے۔غرض اس وقت مسلمانوں کی حالت تو یہاں تک پہنچی ہوئی ہے اور اس پر بھی ان کو کسی مزکّی کی ضرورت نہیں ! ۱؎ غرض یہ حالت اس وقت اسلام کی ہے اور پھر کہا جاتا ہے کہ مزکّی کی ضرورت نہیں! سخت چوٹ لگی کہ اﷲ ! مسلمانوں کی یہ حالت ہے۔غرض اس وقت مسلمانوں کی حالت تو یہاں تک پہنچی ہوئی ہے اور اس پر بھی ان کو کسی مزکّی کی ضرورت نہیں ! ۱؎ قرآن موجود ہے ۱؎ ۱۷؍دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۳۔۱۴