حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 105 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 105

کہتا ہے۔قرآن میں یہ ہے۔حضرت صاحب مثال دیا کرتے ہیں کہ انہوں نے مداری کے تھیلے کی سی بات کر رکھی ہے۔جیسے وہ چاہتا ہے اس میں سے نکالتا ہے۔ویسے ہی یہ بھی جو روایت اپنے مطلب کی چاہتے ہیں نکال کر پیش کر دیتے ہیں اور یہ اختلاف اس شدّت سے پھیلا ہوا ہے کہ اس کا بیان کرنا بھی آسان نہیں۔صداقت اس طرح چھپ جاتی ہے جب تک مامور من اﷲ خدا تعالیٰ سے لطیف فہم لے کر نہیں آتا۔صداقت بیج کی طرح رہتی ہے۔جیسے بارش آسمان سے گرتی ہے تو خواہ ساری دنیا زور لگائے کہ بیج نشوونما نہ پائے۔وہ اُگنے نہ پائے۔وہ اُگنے سے نہیں رہتا۔اسی طرح پر جب مامور من اﷲ آتا ہے تو خواہ کوئی کچھ ہی کرے وہ صداقت کو ضرور ہی نکال لیتا ہے۔اس پہچان یہی ہوتی ہے کہ جو کام وہ کرتا ہے عقل صحیح اور نقل پریہ اور تائیداتِ سماوی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔اس وقت آزادی کی راہیں کُھلی ہیں۔اسلام پر وہ اعتراض کئے جاتے ہیں کہ پہلے کسی نے کبھی سُنے بھی نہ تھے۔میں نے بعض لوگوں سے سمجھنا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ پہلے بھی اعتراض کرتے تھے۔میں کہتا ہوں یہ بالکل غلط اور جھوٹ بات ہے۔پہلے کوئی اعتراص نہیں کرتا تھا۔اسلامی سلطنت کی سَطوَت و جبروت کے مقابلہ میں کون اعتراض کر سکتا تھا۔یہ سب کچھ اس ضدی کا کرشمہ ہے۔اور اسی انڈیا میں اس کو ترقی ہے جو چاہے کوئی کردے۔اخبارات و رسالہ جات میں زور و شور سے مخالفت کی جاتی اور اعتراص کئے جاتے ہیں کوئی نہیں روکتا۔فسق و فجور نے یہاں تک ترقی کی ہے کہ شراب جسے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے جمّاع الاثم کہا ہے اسی پر قیاس کر لو کہ کیا حالت ہے۔لنڈن ایک شہر میں اس کی یہ حالت ہے کہ صرف شراب فروشوں کی دوکانوں کو الگ ایک لائن میں رکھا جاوے تو پچہتر میل سے زیادہ تک جاتی ہیں۔اور کل کارخانے اتوار کو بند رہیں، مگر شراب کی دکانیں اتوار کو بھی کھلنی ضروری ہیں۔اس سے اندازہ اور قیاس کر لو دوسری حالتوں کا۔عورتوں کی بابت آیا ہے کہ وہ حبائل الشیطان ہیں یعنی عورتیں شیطان کی رسّیاں ہیں۔حقیقت میں جس قدر ابتلاء ان عورتوں کے ذریعہ سے آتے ہیں اور جس طرح شیطان ان رسّیوں کے ذریعہ سے اپنا کام کرتا ہے۔وہ کوئی ایسی بات نہیں کہ کسی سے پوشیدہ ہو۔مشتری عورتوں اور مشنریوں سے جو خرابیان اکثر اوقات پیدا ہوتی ہیں۔اور آئے دن اس قسم کی خبریں سننے میں آتی ہیں۔کہ فلاں گھر میں ایک مشنری عورت آتی تھی اور وہاں سے فلاں عورت کو نکال لے گئی۔اس کا پتہ نہیں وغیرہ۔پھر اس سے ذرا اور آگے بڑھو۔ولایت میں جو لوگ پڑھنے کے واسطے جاتے ہیں۔اور کوئی ان کے حال کا بُر سان اور نگران نہیں ہوتا۔پھر جو کچھ وہاں وہ کر گزریں تھوڑا ہے۔مذہب کی رسمی قیود بھی