حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 104 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 104

ذکر کیا ہے۔اس بھی بہت عرصہ پہلے مجھے اس کی خوشبو آ رہی تھی۔اندر باہر جہاں کہیں ہو۔کوئی بھی مضمون ہو۔جس پر یہ بول رہا ہو۔میں دعوٰی سے کہتا ہوں کہ خواہ وہ وفاتِ مسیح سے کتنا ہی غیر متعلق ہو۔مگر وفاتِ مسیح کا ذکر ضرور ہی کرے گا! یہ عزم ، یہ استقلال اور عقد ہمّت مامور کے سوا کسی دوسرے کو نہیں ملتی ہے! اور یاد رکھو۔نہیں ملتی ہے!! تم مامور من اﷲ کو اس کے عقد ہمّت مامور کے سوا کسی دوسرے کو نہیں ملتی ہے! اور یاد رکھو۔نہیں ملتی ہے!!تم مامور من اﷲ کو اس کے عقد ہمّت اور توجہ تام سے بھی شناخت کر سکتے ہو۔بیشک خدا تعالیٰ مضطر کی دُعا سُنتا ہے۔جب انسان مضطر ہو تو کیوں نہ سُنے۔مَیں دیکھتا ہوں کہ اپنی بیماری یا دوسرے بیماروں کو دیکھتا ہوں تو مَیں مضطر ہوتا ہوں اور میرا مولیٰ میری دعا سُنتا ہے۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ وہ صورت جاتی رہتی ہے تو پھر وہ حالت پیدا نہیں ہوتی۔اس وقت میں اپنے نفس کو کہتا ہوں کہ تو مزکّی نہیں ہو سکتا۔اس وقت مزکّی وہی ہو سکتا ہے۔جو ہر حالت میں مسیح کی وفات کو لے آتا ہے۔ایک شخص نے عرص کی کہ مَیں قرآن پڑھایا کرتا ہوں۔مجھے کوی نصیحت فرمائیے۔فرمایا۔قرآن شریف پڑھایا کرتے ہو تو بس یہی کافی ہے کہ اِنِّیْ مُتَوَفِیْکَکے معنی اِنِّیْ مُمِیْتُکَ پڑھا دیا کرو۔اب غور کرو کہ کس قدر عقدِ ہمّت ہے۔کیسی توجہ ہے۔ساری نصیحتوں میں اُسے یہی ایک ضروری معلوم ہوئی ہے۔مجھ سے اگر وہ شخص پوچھتا تو شاید سینکڑوں نصیحتیں کرتا اور وہ بطاہر ضروری بھی ہوتیں۔مگر نہ کرتا تو یہی نہ کرتا اور یہی سب سے اہم ہے یا کسی اَور سے وہ پوچھتا تو وہ اپنی جگہ سوچ لے کہ کیا وہ یہی نصیحت کرتا جو اس مزکّی نے کی؟ مَیں دعوٰی سے کہتا ہوں کہ ہرگز نہ کرتا۔یہ اسی کا کام ہے۔دوسرے کا ہو ہی نہیں سکتا اور یہی تو بتاتا ہے کہ یہ کسرب صلیب کے لئے آیا ہے۔۱؎ یہ یقین رکھو کہ جب تک خدا تعالیٰ کے فضل کے جذب کرنے کے لئے اضطراب اور سچّا اضطراب نہ ہو۔کچھ نہیں بنتا۔مسیحؑ کی موت معمولی بات نہیں۔یہ وہ موت ہے جو عیسوی دین کی موت کا باعث ہے! اس قوم کو اگر کوئی جیت سکتا ہے تو اس کے لئے یہی ایک گُر ہے۔اب غور کر کے دیکھ لو کہ اس کے لئے اس نے کس قدر دعائیں کی ہوں گی۔دل میں کس قدر جوش اُٹھتے ہوں گے۔ہم تو ان کو سمجھ بھی نہیں سکتے کہ ایک آدمی مر گیا۔پس مر گیا، بات کیا ہے، مرا ہی کرتے ہیں، مگر نہیں۔اس کے ہل سے سب کچھ حل ہے۔یہ فہم جو اسے دیا گیا ہے، یہ فہم مامور من اﷲ کے سوا دوسرے کو نہیں ملتا۔یہ اضطراب اور جوش دوسرے کا حصّہ نہیں ہو سکتا۔اگر کوئی دعوٰی کرے تو خیال باطل اور وہم محال ہے! پھر اختلاف اندرونی اور بیرونی پر نظر کرو کہ کیا حالت ہو رہی ہے۔ایک کہتا ہے بائیبل میں یہ ہے دوسرا ۱؎ الحکم ۱۰؍ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ