حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 103
نے اعتراص کیا۔میں نے اسے بھی کہا کہ اصل کو مدّنظر رکھو! مجھ پر اعتراٖض کیا گیا کہ روزہ کیوں رکھا جاتا ہے اور پھر رمضان ہی میں کیوں رکھا جاتا ہے؟ میں نے اس کو اوّلاً یہی جواب دیا کہ تم بتاؤ تمہاری کس کتاب نے منع کیا کہ روزہ نہ رکھو؟ اور پھر اس منع کے دلائل کیا دئے ہیں؟ میں تو بتاؤں گا کہ روزہ کیوں رکھنا چاہیئے اور رمضان میں کیوں فرض کیا گیا۔اُسے کچھ جواب نہ بن پڑا میں نے اس مضبوط اور محکم اصل کو لے کر کہا کہ دیکھو ہماری کتاب قرآن شریف روزہ کا حکم دیتی ہے تو اس کی وجہ بھی بتاتی ہے۔کہ کیوں روزہ رکھنا چاہیئے۔لَعَلّٰکُمْ تَتَّقُوْنَ۔روزہ رکھنے کا نتیجہ یہ ہو گا۔کہ تم دکھوں سے بچ جاؤ گے اور سُکھ پاؤ گے۔رمضان ہی میں کیوں رکھیں؟ اس کی وجہ بتائی شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ ٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ(البقرۃ:۱۸۶) چونکہ اس میں قرآن نازل ہوا۔یہ برکات ِ الہٰیہ کے نزول کا موجب ہے۔اس لئے وہ اصل غرض جو لَعَلّٰکُمْ تَتَّقُوْن میں ہے، حاصل ہوتی ہے۔اسی طرح پر جس امر کو لو یا جس نہی کو لو۔قرآن نے اس کے اسباب اور نتائج کو واضح طور پر بیان کیا ہے۔اور نہ صرف بیان کیا ہے بلکہ ان کے نتائج سے بہرہ مند کر کے دنیا کو دکھا دیا ہے۔آخرت کے وعدے تو آخرت میں پورے ہوں گے۔اور ضرور ہوں گے مگر اس دنیا میں اُن سے حصّہ دیا اور ایسا حصّہ دیا کہ اربعہ متناسبہ کے قاعدہ کے موافق وہ آخرت پر بطور دلائل اور حجج کے ٹھیرے۔جن کو دیکھ کر اب کوئی آخرت کا انکار نہیں کر سکتا۔صحابہؓ ہی تک وہ فیص اور فصل محدود اور مخصوص نہ تھا۔اب بھی اگر کوئی قرآن شریف پر عمل کرنے والا خلوص سے اﷲ تعالیٰ کی طرف آوے۔وہ ان انعامات اور فصلوں سے حصّہ لیتا ہے۔اور ضرور لیتا ہے۔اس وقت بھی لیتا ہے دیکھو ہمارا امام ان وعدوں اور فصلوں کا کیسا سچّا نمونہ اور گواہ موجود ہے! غرض سب کچھ قرآن میں ہے مگر مزکّی کے بغیر ، معلم کے بغیر وہ تزکیہ اور تعلیم نہیں ہوتی۔مزکّی اپنی کشش اور اثر سے تزکیہ کرتا ہے۔اور ان انعامات کا مورد بنانے میں، اپنی دعا، عقد ، ہمّت ، توجہ تام سے کام لیتا ہے جو دوسرے میں نہیں ہوتی ہے۔ایک بھائی نے مجھ سے پوچھا کہ وفاتِ مسیح پر اس قدر زور کیوں دیا جاتا ہے۔ثابت ہو گیا کہ وہ مر گیا۔اب اس کی کیا ضرورت ہے کہ بار بار اسی کا تذکرہ کیا جاوے؟ مَیںنے اس کو کہا کہ یہی وہ سرّ ہے جس سے یہ مسیح موعود بنایا گیا۔اور جو کسرِ صلیب کا تمغہ لیتا ہے۔تُم اور مَیں اور مَیں اور اَور اس قابل نہیں ہوئے۔یہ ثبوت ہے اس کے خدا کی طرف سے ہوتے اور اس کے کامیاب ہو جانے کا۔مَیں سچ کہتا ہوں اور ایمان سے کہتا ہوں کہ میری آنکھ نے وہ دیکھا جو بہت تھوڑوں نے ابھی دیکھا ہو گا۔مَیں دیکھ چکا ہوں کہ کسرِ صلیب ہو چکی۔میں نے تو اسی روز اس کا مشاہدہ کر لیا تھا جب اس نے امرتسر کے مباحثہ میں وہ اصل پیش کی جس کا ابھی مَیں نے