حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 102 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 102

عورتیں دردِزِہ سے بچہ جنتی ہیں یا نہیں؟ اس سے تو معلوم ہوا کہ نجات کے آثار پائے نہیں جاتے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ مزکّی کے بغیر اصلاح نہیں ہو سکتی! ان خیالی باتوں سے کچھ فائدہ نہیں ہو سکتا! اس کفّارہ کا نتیجہ تو یہ ہو کہ دنیا میں فسق و فجور اور اباحت پھیل گئی اور خدا کا خوف اُٹھ گیا۔اب جس مزکّی کی صرورت ہے وہ ایسی خاصیّت اور قوّت کا ہونا چاہیے جو اس فتنہ کو دور کرے۔اور اب غور کر کے دیکھ لو کہ یہ مزکّی اپنے اس مقصد میں کامیاب ہوا ہے یا نہیں؟ ایک ایک اصل جو اس نے پیش کی ہے۔اس کے ذریعہ مذاہبِ باطلہ کو اس نے ہلاک کر دیا ہے!! ایک عیسائی نے مجھ سے پوچھا کہ اس نے آ کر کیا کیا ہے؟ میں نے کہا کہ تم کو لاجواب کر دیا ہے! ۱؎ امرتسرمیں پندرہ روز تک مباحثہ ہوا۔اگر رحیم کریم نہ ہوتا تو ایک ہی منٹ میں ختم کر دیتا! ایک ہی اصل اس نے پیش کی تھی جس کا جواب عیسائی اور دوسری قومیں ہرگز ہرگز نہیں دے سکتیں اور قیامت تک نہ دے سکیں گی!! پھر وہ اصل ایسی اصل نہیں ہے کہ اسے یونہی ردّ کر دیا جاوے۔بلکہ ہر سلیم الفطرت دانشمند انسان کو ماننا پڑے گا کہ بڑی پکّی اصل ہے اور وہ اصل یہ ہے کہ ہر مذہب کی الہامی کتاب کا یہ کاصہ ہونا جاہیئے کہ جو دعوٰی وہ کرے۔اس کی دلیل بھی اُسی میں ہو۔یعنی دعوٰی بھی وہی کرے اور دلیل بھی وہی دے۔مثلاً عیسائی کہتے ہیں۔کہ یسوع خدا ہے۔تو چاہیئے کہ انجیل میں پہلے وہ یہ دعوٰی دکھائیں کہ یسوع خدا ہے۔پھر اس کے دلائل دیں۔مگر یہ اصل انجیل میں کہاں؟ عیسائی مجبور ہو گئے اور ان کو اس حصّہ کو چھوڑنا پڑا۔اس راہ پر وہ ایک منٹ بھی چل نہ سکتے تھے۔مباحثہ کی روئیداد موجود ہے جو چاہے دیکھ لے! میں تو اُسی وقت جب اس کے منہ سے یہ لفظ نکلا تھا۔سمجھ گیا اور مان چکا تھا کہ یہ کسرِ صلیب میں کامیاب ہو گیا! اس اصل سے اُس نے قرآن شریف کی وہ عزّت اور عظمت ظاہر کی کہ میرا ایمان ہے کہ تیرہ سو برس کے اندر کسی نے نہیں کی! اس نے کل مباحثہ میں اپنے اس طرز اور اصل کو نہیں چھوڑا۔جو دعوٰی بیان کرتا۔قرآن شریف سے اور جو دلیل بیان کرتا وہ بھی کتاب اﷲسے دیتا۔اور پندرہ دن تک برابر اسی کا التزام رکھا! اب بتاؤ کہ یہ طرزِ بیان مزکّی کے سوا حاصل ہو سکتا ہے؟ میں نے بہت سی کتابیں پڑھی ہیں۔اور میں یقینا کہتا ہوں کہ جس قدر تم اس وقت موجود ہو۔تم سب سے زیادہ میں کتابیں پڑھ چکا ہوں اور کتاب میری ہر وقت کی رفیق ہے۔لیکن میں سچ کہتا ہوں کہ اس طرز پر مباحثہ کی بنیاد کوئی نہیں ڈال سکا اور ایسی طرز کہ مخالف پہلا ہی قدم نہیں اٹھا سکتا۔جو چاہے آزما کر دیکھ لے! میں نے آج بھی اس اصل سے فائدہ اٹھایا۔ایک شخص ؎ الحکم ۳۰ نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۴۔۵