حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 98
کو یکجائی نظر سے دیکھو اور غور کرو کہ کیا یہ علمیؔ اور عملی یا ایمانی اور عملی اختلاف کسی تال اور سُر کے ذریعہ مٹ سکتا ہے یا خود بخود؟ اور قرآن شریف جو اختلاف مٹانے کا مدّعی ہے اور سچّا مدّعی ہے۔اس نے کیا راہ بتائی ہے۔مَیں بڑے دردِ دل سے اُن مباحث اور لیکچروں کو پڑھا کرتا ہوں جو اسی زمانہ میں مسلمانوں کے تنزّل کے اسباب پردئے جاتے ہیں۔اسباب تنزّل اور اسبابِ ترقی کے بیان کرنے میں ہمارے ریفارمر ( کود ساختہ) اور مصلح قرآن شریف کو مَس نہیں کرتے اور تفرقہ کے دور کرنے کے لئے قرآن شریف میں علاج نہیں دھونڈتے۔میں نے ان لیکچروں اور سپیچوں کو پڑھ کر دردِ دل سے یہی لکھا ہے۔ (الفرقان:۳۱) غرض میں اس عظیم الشان اختلاف کو ابھی پیش کرتا ہوں اور پوچھتا ہوں کہ یہ کیونکر دور ہو سکتا ہے؟ دیکھو ایک چیز ہے جس کا نام ایمان ہے۔اور ایک کا نام عمل ہے۔ان دونوں کا باہم مقابلہ کرو اور سوچ کر بتاؤ کہ کیا ان میں موافقت ہے؟ کیا حال اور قال یکساں ہے؟ اگر نہیں!اور یقیناً نہیں!! تو پھر کیوں صاف دل کے ساتھ یہ اقرار نہیں کیا جاتا کہ ایک مزکّی کی ضرورت ہے۔جو انسان کو اس نفاق سے جو اس کے اندر ایمان اور عمل کی عدمِ موافقت سے پیدا ہو رہا ہے۔دُور کرے۔اگر نِرا علم کوئی چیز ہوتا۔معرفتب صحیحہ کی کوئی ضرورت نہ ہوتی۔اگر اس قوّت اور کشش کی حاجت نہ ہوتی جو انسان پر اپنا عمل کر کے اس کے دل کو صاف کرنے میں معاون اور مددگار تھیرتی ہے۔جو مزکّی کی تاثیر صحبت اور پاک انفاس کی برکت سے ملتی ہے۔جس کی طرف کُوْنُوْامَعَ الصَّادِقِیْنَکہہ کہ مولیٰ کریم نے توجہ دلائی ہے۔تو میں پوچھتا ہوں کہ پھر اسی پارسی لسان الغیب کو کیا حاجت اور ضرورت تھی جو وہ بول اٹھا کہ مشکلے دارم زدانشمندِ مجلس بازپُرس! اس ایمانیے اور عملی اختلاف کے موراء اور اختلاف ہے جس نے قوم کے شیرازہ کو پراگندہ اور منتشر کر دیا ہے اور وہ رُوح قوم میں نہ رہی جو (آل عمران:۱۰۴) میں رکھی گئی تھی۔یعنی مختلف فرقے، شیعہ،خوارج،مقلّد، غیر مقلّد، جبریّۂ قدریّہ وغیرہ کے بکھیڑوں اور ؟قضیوں پر نگاہ کرو تو عظیم الشان تفرقہ نظر آئے گا۔میں نے اکثر لوگوں سے پوچھا ہے کہ یہ فرقہ بندیاں کیوں ہیں اکثروں نے کہا ہے کہ سب فرقے قرآن ہی سے استلال کرتے ہیں۔میں نے نہایت تعجّب اور افسوس کیساتھ اس قسم کی دلیری اور جرأت کو دیکھا ہے۔اور سُنا ہے۔قرآن شریف تو اختلاف مٹانے کو آیا ہے۔اور یہی اس کا دعوٰی ہے جو بالکل سچّا ہے۔پھر یہ اختلاف اس کے ذریعہ کیسے ہو سکتا ہے؟