حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 96
(النور:۵۶) پھر کیا چودہویں صدی موسوی کے خلیفہ کے مقابل پر چودہویں صدی ہجری پر ایک خلیفہ کا آنا ضروری تھا یا نہیں؟ اگر انصاف کو ہاتھ سے نہ دیا جاوے اور اس آیت وعدہ کے لفظ کُمُا پر پورا غور کر لیا جاوے تو صاف اقرار کرنا پڑے گا کہ موسوی خلفاء کے مقابل پر چودہویں صدی کا خلیفہ خاتم الخلفاء ہو گا اور وہ مسیح موعود ہو گا۔اب غور کرو کہ عقل اور نقل میں تنا قض کہاں ہوا؟ عقل نے ضرورت بتائی۔نقصِ صحیح بھی بتاتی ہے کہ اس وقت ایک مامور کی ضرورت ہے اور وہ کاتم الخلفاء ہو گا۔اس کا نام مسیح موعود ہونا چاہیئے۔پھر ایک مدّعی موجود ہے۔وہ بھی یہی کہتا ہے کہ مَیں مسیح موعود ہوں۔اس کے دعوے کو راست بازوں کے معیار پر پرکھ لو۔مَیں اب ایک اور آسان ترین بات پیش کرتا ہوں۔جو عقل اور نقل کی رُو سے اس امام کی تصدیق کرتی ہے۔قرآن شریف میں چاند اور سورج کی سنّت کے متعلق فرمایا ہے۔(یونس:۶) سورج اور چاند کے نظام اور قانون پر نظر کے کے بہت سے حساب سمجھ سکتے ہو۔جنتریاں بنا سکتے ہو جیسے دو اور دو چار ایک یقینی بات ہے۔اسی نظر پر یہ نظام بھی حق ہے۔اب اگر کوئی شخص میرزاصاحب کے دعوے کے متعلق پہلے دعوے کے وقت نقل ِصحیح سے کام لیتا تو یہ عقدہ کیسی آسانی سے حل ہو جاتا تھا۔تیرہ سو برس پیشتر کہا گیا تھا کہ اس مہدی کے وقت رمضان میں کسوف و خسوف ہو گا اور اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا بُت پرست قوم بھی سال سے پہلے جنتری لکھ دیتی ہے۔مسلمانوں کو غیرت کرنی چاہیئے تھی اور معلوم کرنا چاہیئے تھا کہ کس سال میں اجتماع ممکن ہے؟ ہندو جاہل جب پتری بنا کر کسوف خسوف کے پتے دیتا ہے تو ایک مسلمان کو جس کی کتاب میں لکھا ہے۔سوچنا چاہیئے تھا۔کہ وہ وقت کب ہو گا۔اور جب اسے وقت کا پتہ ملتا تو وہ تلاش کرتا کہ مدّعی ہے یا نہیں؟ اگر وہ مدّعی کو پا لیتا تو سوچ لیتا کہ آسمان کی بات میرے یا کسی کے تعلق میں نہیں ہے۔نقل میں موجود ہے۔کہ اس کے وقت کسوف خسوف ہو گا اور عقل بتاتی ہے کہ یہ اجتماع کسوف و خسوف فلاں وقت ہو گا۔اور وہ وقت آ گیا اور مدّعی موجود ہے۔جب ان امور پر غور کرتا تو بات بالکل صاف تھی اور وہ مان سکتا تھا اور بڑی سہل راہ سے سمجھ سکتا تھا۔اگر اتنی عقل اور سمجھ نہ تھی تووعدے کے وقت ہی حدیث کو دیکھ لیتا اور سُن لیتا اور سوچتا کہ یہ حدیث کیسی ہے اور پھر کسی ہندو سے دریافت کرتا کہ یہ موقع کب ہو گا اور جب وہ اُسے بتاتا کہ فلاںسنہ میں ہو گا اور پھر جب وقوع میں آتا تو تسلیم کر کے اپنے تزکیہ کے لئے چلا جاتا۔غرص یہ کسی صاف اور روشن بات تھی لیکن اگر آسمان کی طرف نہیں