حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 93
قبر اس مکان کا نام ہے جہاں پر نفس بعدالحیات اپنے اعمال کے مطابق رہتا ہے۔ (عبس:۲۲)آیت سے یہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے کہ وہ کون سی قبر ہے جس میں میّت کو حسبِ اعمال آرام یا دُکھ پہنچتا ہے۔پس اس قسم کے اعتراض کہ ہمیں قبر میں بچھو۔سانپ کاٹنے والے اور آگ نظر نہیں آتی وغیرھا حل ہو جاتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۷) انیس سو سال سے حضرت عیسٰیؑ ان لوگوں کے زعم میں آسمان پر رہتے ہیں اور چند سالوں کے لئے یہاں آئے تو ان کا مستقرتو آسمان ہی ٹھہرا حالانکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے(البقرۃ:۳۷) (بدر ۲۴؍اگست ۱۹۱۱ء صفحہ۴) ۵۷ تا ۵۹۔ : تکذیبِ رسل بڑا بھاری جرم ہے فرماتا ہے۔(العنکبوت:۶۹) : انکار بہت سے خطرناک جرموں کی اصل ہے۔ابلیس کی نسبت فرمایا۔(البقرۃ:۳۵) انسان جب تکذیب کے بعد بدظنی میں مبتلا ہو تا ہے تو انکار پر کمر باندھتا ہے۔: یہ فرعون کی چالاکی تھی۔الزامِ بغاوت لگا کر اپنی تمام قوم کو حضرت موسٰیؑ کے خلاف بھڑکا دیا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۷) بدظنی انسان کو ہلاک کر دیتی ہے۔اس بات کی تمیز کہ جو ظن میں نے کیا ہے بَد ہے یا نیک یہ بھی خدا کے فضل پر موقوف ہے۔اﷲ تعالیٰ مومن کو ایک فراست بخشتا ہے۔فرعون کو بدظنی نے ہلاک کیا۔اس نے بدظنی کی کہ حضرت موسیٰ حکومت کے خواہشمند ہیں۔حالانکہ مجھے جیسا ایک اور ایک دو پر یقین ہے۔ایسا ہی اس بات پر کہ انبیاء اولیاء خلفاء اَئمہ کے دل میں قطعًا ریاست، دولت، حکومت