حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 76 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 76

ایسے ایسے بُرے کام کر کے وہ زبانِ حال سے جتاتا ہے کہ اسے یوم الحساب کا یقین نہیں۔اگر یقین ہو تو اس کے متعلق تیاری بھی کرے۔اس کے بعد ایک دلیل بیان کرتا ہے کہ انسان کچھ نہ تھا۔ہم نے اسے اپنی صفتِ ربوبیت کے ماتحت بتدریج اس حالت میں پہنچایا جو پورا ثبوت ہے اس بات کا کہ ہم اسے پھر اٹھائیں گے اور حسبِ اعمال جنت یا دوزخ میں پہنچائیں گے۔اس کی تفصیل فرماتا ہے کہ متقیوں کو بچائیں گے اورظالموں کو دوزخ میں بھجوائیں گے۔اس وقت معلوم ہو گا کہ یہ ظاہری دکھلاوے کا سازوسامان کہاں تک کسی کے کام آنے والا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی یہ چیزیں ان کو حقیقی عزّت نہیں دے سکیں۔ایک شخص نے مجھ پر اعتراص کیا کہ آپ کے قرآن میں نمرود۔حضرت ابراہیم کے مقابل کا ذکر ہے۔حالانکہ وہ کوئی شخص نہیں ہوا۔میں نے کہا یہی تو اعجاز قرآنی ہے کہ اس مدِّ مقابل کا نام نہیں لیا۔گویا بتلا دیا کہ یہ ایسا بے نشان کیاجاوے گا۔کہ ایک زمانہ میں اس کی ہستی سے بھی انکار کیا جائے گا۔اس کے خلاف حضرت ابراہیمؑ کو دیکھو کہ مجوس۔عیسائی۔یہودی۔مسلمان۔سب ہی اس کا نام عزّت سے لیتے ہیں۔اور اس کی اولاد تمام رُوئے زمین پر موجود ہے۔حضرت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کا نامِ نامی پانچ بار تو چھتوں پر بآوازِ بلند پکارا جاتا ہے اور پھر کس عزّت کے ساتھ۔مگر کیا کوئی عتبہ، ربیعہ، شیبہ، ابوجہل اور پھر امام حسینؓ کے مقابل یزید کی اولاد ہونے کی طرف بھی اپنے تئیں منسوب کرتا ہے؟ یاد رکھو! آرام کی زندگی کیلئے یہ چالاکیاں،یہ سازو سامان کی حِرص مفید نہیں۔بلکہ قرآن مجید کی سچی فرمانبرداری کرو۔میرا تو اعتقاد ہے کہ اس کتاب کا ایک رکوع انسان کو بادشاہ سے بڑھ کر خوش قسمت بنا دیتا ہے۔جس باغ میں مَیں رہتا ہوں اگر لوگوں کو خبر ہو جاوے تو مجھے بعض دفعہ خیال گزرتا ہے کہ میرے گھر سے قرآن نکال کر لے جاویں۔مسلمانوں کے پاس ایسی مقدّس کتاب ہو اور پھر وہ تکالیف میں مشکلات میں پھنسے ہوں۔ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔(بدر ۷؍ جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ۱) ۶۸،۶۹۔  : وہ رب جس نے تم کو عدم سے وجود دیا۔پھر نیست کر کے وجود میں لا سکتا ہے۔ربوبیتِ الہٰی کا تقاضا ہے کہ جو ناقص رہ گیا ہے۔وہ کامل