حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 75
: اس کا فاعل ۱۔مومن ہیں بہشت میں داخل ہونے کے وقت یا۔۲۔جبرائیل یا مرادمسلمانوں کا نزول ہے اس ملک میں۔: عبادت پر استقلال کرو۔ؔ : ہم نام۔ولد۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۹؍مئی۱۹۱۰ء صفحہ۱۶۵) حضرت جبرائیل سے ایک دفعہ حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے پوچھا۔تم ہر روز کیوں نہیں آتے۔تو انہوں نے حسبِ حال یہ آیت پڑھ دی۔۔اب بعض مفسرین نے اس سے یہ سمجھ کرکہ یہ خاص جبرائیل کیلئے ہی ہے۔مشکلات میں پڑے ہیں۔یہ طریق تفسیر ٹھیک نہیں۔اس رکوع میں تو جنتیوں کا ذکر ہے۔وہی کہتے ہیں کہ ہم جنت میں اﷲ کے حکم سے ہی پہنچے ہیں۔(بدر ۲۴؍ اگست ۱۹۱۱ء صفحہ ۳) ۶۷۔ : وہ انسان جو قیامت کا منکر ہے ایسا کہتا ہے۔بعض انسان اپنے افعال سے ظاہر کرتے ہیں کہ مَر کر جِی اٹھنے کا خیال ان میں بہت کمزور ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۵) اگر کامل یقین ہو کہ فلاں بات کا یہ نتیجہ ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ انسان فکر مند نہ ہو۔برسات آنے والی ہو تو سب کو لپائیوں کا فکر پیدا ہو جاتا ہے۔پھر لوگ بیج بونے کی تیاریاں ( باوجود ان خوفوں کے کہ کھیتی شاید ہو یا نہ ہو پھر اسکے بعد اٹھانی یا کھانی نصیب ہو یا نہ ہو) کر لیتے ہیں۔امتحان قریب ہو تو لائق سے لائق لڑکا کچھ نہ کچھ تیاری کر لیتا ہے۔یہ اس لئے کہ اسے یقین ہوتا ہے۔کل امتحان ضرور ہو گا۔تو پھر اگر قیامت کا یقین پیدا ہو تو انسان کیوں گناہ اور لوگوں کی حق تلفیاں اور اکلِ مال بالباطل کرے۔