حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 67
ہو۔تجارت میں حساب و کتاب رکھو۔ملازمت میں فرضِ منصبی کو ایمانداری سے ادا کرو۔ایک اور بحث بھی ہے کہ مسیح بے باپ تھا یا نہیں۔میں کہتا ہوں۔ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر کا باپ تھا یا نہیں۔شریعت نے ہمیں اس بات پر مامور نہیں کیا کہ ہم پیغمبروں کے ماں باپوں اور بہن بھائیوں کی تحقیق کرتے پھریں۔یہ باتیں تمہاری روحانیت میں داخل نہیں۔ہم نے آج جو کچھ سمجھایا۔وہ دردِ دل سے سمجھایا ہے۔اﷲ تعالیٰ ہی سمجھ دے۔اسی کے قبضہ میں سب کے دل ہیں۔تم شکر کرو کہ ایک شخص کے ذریعہ تمہاری جماعت کا شیرازہ قائم ہے۔اتفاق بڑی نعمت ہے۔اور یہ مشکل سے حاصل ہوتا ہے۔یہ خدا کا فضل ہے کہ تم کو ایسا شخص دے دیا۔جو شیرازہ وحدت قائم رکھے جاتا ہے۔وہ نہ توجوان ہے۔اور نہ اس کے علوم میں اتنی وسعت جتنی اس زمانہ میں چاہیئے لیکن خدا نے تو موسٰیؑ کے عصا سے جو بے جان لکڑی تھی اتنا بڑا کام لے لیا تھا۔کہ فرعونیت کا قلع قمع ہو گیا۔اور میں تو اﷲ کے فضل سے انسان ہوں۔پس کیا عجیب ہے کہ خدا مجھ سے یہ کام لے لے! تم اختلافات اور تفرقہ اندازی سے بچو!! نکتہ چینی میں حد سے بڑھ جانا بڑا خطرناک ہے !!! اﷲ سے ڈرو!!!! اﷲکی توفیق سے سب کچھ ہو گا۔(بدر ۲۴؍اگست ۱۹۱۱ء صفحہ ۲۔۳) ۴۱۔ : تمام مملکتوں اور جائیدادوں کی مِلک پر غرور کرنے والے اس آیت پر غور کریں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍اپریل،۵؍مئی۱۹۱۰ء صفحہ۱۶۴) ۴۲۔ اور بیان کر دے اس کتاب میں ابراہیم کا قصّہ۔بے ریب وہ راست باز نبی تھا۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۲۸۸) : اس کتاب میں حضرت ابراہیمؑ کا ذکر کر دو۔حضرت ابراہیمؑ کوسہ میں رہتے تھے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍اپریل،۵؍مئی۱۹۱۰ء صفحہ۱۶۴) : آپ بھی اولاد کی طرف سے ناامید تھے۔۹۹ برس کی عمر میں