حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 66 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 66

کے خلاف ہے اس میں ابطالِ کفارہ ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍اپریل،۵؍مئی۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۴) ۳۸۔  : تم میں اگر اس قسم کی بحثیں ہوں کہ خلیفہ اور فلاں کے کیا تعلقات ہیں؟ اور پھر اس پر فیصلہ کرنے لگ جاؤ تو مجھے سخت رنج پہنچتا ہے ! تم مجھے خلیفۃ المسیح کہتے ہو۔میں تو اس خطاب پر کبھی پھُولا نہیں۔بلکہ اپنی قلم سے کبھی لکھا بھی نہیں۔میں اﷲ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اس بیہودہ بحثیں کرنے والے لوگوں کو اپنی جماعت میں نہیں سمجھتا۔میں تمام جماعت کیلئے دُعا کرتا ہوں مگر ایسے لوگوں کیلئے دعا بھی پسند نہیں کرتا۔ان کو کیا حق ہے کہ تفرقہ اندازی کی باتیں کریں؟آگ پہلے دیاسلائی سے پیدا ہوتی ہے۔مگر آخرکار گھر پھر محلہ پھر شہر کے شہر جلا دیتی ہے۔ایسے لوگ اگر میری مدد کے خیال سے ایسا کرتے ہیں۔تو سن رکھیں کہ میں ان کی مدد پر تھوکتا بھی نہیں۔اگر مخالفت میں کرتے ہیں تو وہ خدا سے جا کر کہیں جس نے مجھے خلیفہ بنایا۔سنو! میرا صدیقِ اکبرؓ کی نسبت یہی عقیدہ ہے کہ سقیفہ بنی ساعدۃ نے خلیفہ نہیں بنایا۔نہ اس وقت جب منبر پر لوگوں نے بیعت کی۔نہ اجماع نے ان کو خلیفہ بنایا۔بلکہ خدا نے بنایا۔خدا نے چار جگہ قرآن میں خلافت کا ذکر کیا ہے۔اور چار بار اپنی طرف اس کی نسبت کی ہے۔حضرت آدم کے بارہ میں فرمایا (البقرۃ:۳۱)پھر حضرت داؤد کی نسبت ارشاد کیا (ص ٓ:۲۷) پھر صحابہ کرامؓ کے لئے فرمایا(النور:۵۶)اور پھر سب کیلئے فرمایا۔(یونس:۱۵) پس میں بھی خلیفہ ہوا تو مجھے خدا نے بنایا۔اور اﷲ کے فضل ہی سے ہوا۔جو کچھ ہوا اور اس کی طاقت بغیر انسان کچھ نہیں کر سکتا … تمہیں چاہیئے۔دنیا کماتے۔؟آپ کھاتے۔بیوی بچوں کو کھلاتے۔اس سے بچتا تو دوسرے کے نفع اور مخلوق کی شفقت پر خرچ کرتے۔پھر اس سے وقت بچے تو اَلْحَمْد پڑھو۔لَاحَوْل پڑھو۔استغفار کرو ،درود پڑھو۔لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اﷲ کا ذکر کرو۔تمہارے پاس ان لغو کاموں اور باتوں کیلئے وقت کہاں سے آ گیا؟ اپنے اخلاق کی کمزوریوں کی اصلاح کرو۔گندی گالیاں تمہارے منہ سے نہ نکلیں۔تم میں طمع و حرص نہ